AyurvedicUpchar
ٹونسل کا گھریلو آیورویڈک علاج — آیورویدک جڑی بوٹی

ٹونسل کا گھریلو آیورویڈک علاج: علامات، اسباب اور نسخے

8 منٹ پڑھنے

ماہر جائزہ شدہ

AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا

تعارف

گلے میں اچانک ہونے والا درد، نگلنے میں تکلیف اور بخار ٹونسل (Tonsillitis) کی بنیادی علامات ہیں۔ یہ کیفیت تب پیدا ہوتی ہے جب گلے کے دونوں طرف واقع ٹونسل نامی غدودوں میں انفیکشن یا سوجن آ جاتی ہے۔ یہ مسئلہ بچوں سے لے کر بڑوں تک کسی کو بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہ بچوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ موسم بدلنے کے وقت، خاص طور پر سردیوں اور بارش کے موسم میں یہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ اگر اس کا وقت پر اور صحیح علاج نہ کیا جائے، تو یہ بار بار ہو سکتا ہے اور سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے، لہٰذا اس کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

آیورویڈک نقطہ نظر

آیورویڈ کے قدیم گروہوں، خاص طور پر چرک سمہتا اور سوشروت سمہتا کے مطابق، ٹونسل کو 'گلگند' یا 'توندیکرگ' کی زمرے میں رکھا گیا ہے۔ آیورویڈ کا ماننا ہے کہ جسم میں دوषوں کا عدم توازن ہی امراض کی بنیادی وجہ ہے۔ ٹونسل کی مسئلہ بنیادی طور پر 'کف دوष' اور 'پت دوष' کی تیزی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب ہاضمہ کی آگ کمزور ہو جاتی ہے، تو جسم میں 'آم' (زہریلے مادے) جمع ہونے لگتے ہیں۔ یہ زہریلے مادے خون کے ذریعے گلے کی طرف بڑھتے ہیں اور وہاں جمع ہو کر سوجن اور پیپ پیدا کرتے ہیں۔ سوشروت سمہتا میں ذکر ہے کہ خراب خوراک اور نامناسب حالات کے رابطے میں آنے سے کف اور پت کا ملاپ گلے کے ٹشوز کو متاثر کرتا ہے، جس سے شدید درد اور سوجن (سوجن) پیدا ہوتی ہے۔

عام اسباب

ٹونسل ہونے کے پیچھے بہت سے اندرونی اور بیرونی اسباب ذمہ دار ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہمارے طرز زندگی سے جڑے ہیں۔ سب سے پہلا سبب 'اجیرن' یا خراب ہاضمہ ہے، جس سے جسم میں زہریلے مادے بنتے ہیں۔ دوسرا سبب ٹھنڈے مشروبات، آئس کریم اور دہی کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے جو کف دوष کو بڑھاتا ہے۔ تیسرا سبب گرد و غبار، دھواں اور آلودہ ہوا کا مسلسل رابطے میں رہنا ہے۔ چوتھا سبب موسم میں اچانک تبدیلی، خاص طور پر ٹھنڈی ہوا کا براہ راست گلے پر لگنا ہے۔ پانچواں سبب ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی ہے جو قوت مدافعت کو کمزور کر دیتا ہے۔ چھٹا سبب منہ کی صفائی نہ کرنا اور دانتوں میں کیڑے لگنا بھی گلے کے انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ ساتواں سبب الرجی پیدا کرنے والے اشیاء کا استعمال ہے۔ آخر میں، دوسروں کے ساتھ برتن شیئر کرنے یا متاثرہ شخص کے رابطے میں آنے سے بھی یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔

گھریلو نسخے

1. نمک اور ہلدی کا گارا

اجزاء: 1 گلاس گunguna پانی، 1 چمچ سیندا نمک، 1/4 چمچ ہلدی پاؤڈر۔

تیاری: سب سے پہلے پانی کو ہلکا گunguna کریں۔ اب اس میں ہلدی اور سیندا نمک ملا کر اچھی طرح گھولیں جب تک کہ یہ مکمل طور پر حل نہ ہو جائیں۔

استعمال کیسے کریں: اس گھول سے دن میں 3-4 بار، خاص طور پر صبح اور رات کو سونے سے پہلے گارا کریں۔ اسے نگلیں نہیں، صرف گلے میں گھما کر تھوک دیں۔

یہ کیوں کام کرتا ہے: آیورویڈ میں نمک کو 'لونا' کہا گیا ہے جو کف کو کھینچنے کا کام کرتا ہے۔ ہلدی میں موجود 'کرکومین' ایک طاقتور اینٹی سیپٹک ہے جو سوجن کم کرتا ہے اور جراثیم کو تباہ کر کے گلے کو آرام دیتا ہے۔

2. ادرک اور شہد کا کڑھا

اجزاء: 1 انچ تازہ ادرک (کسا ہوا)، 1 کپ پانی، 1 چمچ خالص شہد۔

تیاری: پانی میں کسے ہوئے ادرک کو ڈال کر 5-7 منٹ تک ابالیں۔ گیس بند کر کے اسے چھان لیں اور ہلکا گunguna ہونے دیں۔ آخر میں اس میں شہد ملیں۔

استعمال کیسے کریں: اس کڑھے کو دن میں دو بار آہستہ آہستہ پیئں۔ اسے پینے کے فوراً بعد کچھ بھی ٹھنڈا نہ کھائیں۔

یہ کیوں کام کرتا ہے: ادرک 'اوشن' ویری والا ہوتا ہے جو جمع ہونے والے کف کو پگھلاتا ہے اور گلے کی نالی کو کھولتا ہے۔ شہد گلے کی نمی کو برقرار رکھتا ہے اور قدرتی اینٹی بائیوٹک کی طرح کام کر کے درد میں فوری آرام فراہم کرتا ہے۔

3. لونگ چوسنا

اجزاء: 2-3 سبوت لونگ، تھوڑا سا سیندا نمک (اختیاری)۔

تیاری: لونگ کو صاف پانی سے دھو لیں۔ اگر چاہیں تو اسے ہلکا بھون سکتے ہیں، لیکن کچی لونگ زیادہ موثر ہوتی ہے۔

استعمال کیسے کریں: لونگ کو منہ میں رکھ کر آہستہ آہستہ چوسیں اور اس کا رس آہستہ آہستہ نگلتے رہیں۔ جب لونگ کا ذائقہ ختم ہو جائے تو اسے تھوک دیں۔ اسے دن میں 3-4 بار کریں۔

یہ کیوں کام کرتا ہے: لونگ میں 'یوجینول' نامی عنصر ہوتا ہے جو ایک قدرتی درد کش اور اینٹی سیپٹک ہے۔ یہ گلے کے متاثرہ ٹشوز کو سن کر درد کم کرتا ہے اور تھوک کے ساتھ مل کر گلے کو جراثیم سے پاک کرتا ہے۔

4. ملہٹی (لائکورس) کا کڑھا

اجزاء: 1 چمچ ملہٹی پاؤڈر یا ٹکڑے، 1.5 کپ پانی۔

تیاری: پانی میں ملہٹی ملا کر تب تک ابالیں جب تک پانی آدھا نہ رہ جائے۔ اسے چھان کر ٹھنڈا کر لیں۔

استعمال کیسے کریں: اس کڑھے سے دن میں 2-3 بار گارا کریں یا اسے آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ کر کے پیئں۔

یہ کیوں کام کرتا ہے: آیورویڈ میں ملہٹی کو 'یشتی مدھو' کہا گیا ہے جو گلے کے لیے امرت کے برابر ہے۔ یہ گلے کی جلن اور خارش کو پرسکون کرتا ہے، سوجن کو کم کرتا ہے اور آواز کو صاف کرنے میں معاون ہے۔

5. لہسن دودھ

اجزاء: 1 کپ دودھ، 2-3 کالیاں لہسن (کٹی ہوئی)، 1 چٹکی ہلدی، 1 چمچ گھی۔

تیاری: دودھ میں لہسن، ہلدی اور گھی ملا کر دھیمی آنچ پر پکائیں۔ جب دودھ ابل جائے اور لہسن گل جائے، تو گیس بند کر دیں۔

استعمال کیسے کریں: اسے ہلکا گunguna کر کے رات کو سونے سے پہلے استعمال کریں۔

یہ کیوں کام کرتا ہے: لہسن میں 'الیسن' ہوتا ہے جو انفیکشن سے لڑتا ہے، جبکہ دودھ اور گھی گلے میں نمی اور نرمی فراہم کرتے ہیں۔ یہ مرکب رات بھر گلے کو غذائیت دیتا ہے اور سوجن کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

6. تولسی اور کالی مرچ کی چائے

اجزاء: 5-6 تازہ تولسی کی پتیاں، 4-5 دانے کالی مرچ، 1 کپ پانی۔

تیاری: پانی میں تولسی کے پتے اور کٹی ہوئی کالی مرچ ڈال کر 10 منٹ تک ابالیں۔ رنگ بدلنے پر چھان لیں۔

استعمال کیسے کریں: اس چائے کو دن میں 2 بار گunguna پیئں۔ اس میں شہد ملاया جا سکتا ہے۔

یہ کیوں کام کرتا ہے: تولسی قوت مدافعت کو مضبوط کرتی ہے اور کالی مرچ جسم کی حرارت بڑھا کر جمع ہونے والے کف اور زہریلے مادوں کو باہر نکالنے میں معاون ہے۔

غذائی تجاویز

ٹونسل کے دوران غذا کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ ایسے میں 'لگھو پاچ' یعنی ہلکا کھانا کھانا چاہیے۔ کھانے میں دلیہ، کھچڑی، سوپ اور ابلی ہوئی سبزیاں شامل کریں۔ گunguna پانی پینا سب سے ضروری ہے۔ آیورویڈ کے مطابق، گھی والا کھانا گلے کے لیے مفید ہے کیونکہ یہ وٹ اور پت کو پرسکون کرتا ہے۔ اس کے برعکس، دہی، پنیر، ٹھنڈے مشروبات، آئس کریم، تلے ہوئے کھانے، مصالحے دار کھانا اور کھٹے پھل (جیسے کھٹا سنترہ یا لیموں) کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں۔ یہ اشیاء کف کو بڑھاتے ہیں اور گلے میں جلن پیدا کر سکتے ہیں، جس سے ٹھیک ہونے میں تاخیر ہوتی ہے۔ رات کا کھانا ہلکا اور سونے سے کم از کم 2 گھنٹے پہلے کر لیں۔

طرز زندگی اور یوگا

طرز زندگی میں کچھ تبدیلیاں ٹونسل سے جلدی آرام دلانے میں مدد کر سکتی ہیں۔ سب سے پہلے، مناسب نیند لیں اور ذہنی دباؤ سے دور رہیں۔ ٹھنڈی ہوا اور گرد و غبار سے بچنے کے لیے ماسک کا استعمال کریں۔ یوگا چیکتسا میں 'سنھاसन' (شیر کی پوزیشن) گلے کے لیے انتہائی مفید ہے، یہ گلے کی پٹھوں کو کھینچتا ہے۔ 'بھرامری پرانایام' اور 'انولوم ویلوم' سانس کی قوت مدافعت بڑھاتے ہیں۔ گرم پانی کی بھاپ لینے سے بھی گلے کی نالی کھلتی ہے۔ منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور برش کرنے کے بعد کللا ضرور کریں۔ تمباکو نوشی اور شراب سے مکمل پرہیز کریں۔

ڈاکٹر کو کب دکھائیں

اگرچہ گھریلو نسخے موثر ہیں، لیکن کچھ حالات میں طبی مدد لینا لازمی ہے۔ اگر گلے میں درد اتنا تیز ہو کہ آپ پانی بھی نگل نہ سکیں، سانس لینے میں شدید دشواری ہو، منہ کھولنے میں تکلیف ہو، یا 38.5 ڈگری سے زیادہ بخار 2-3 دن سے زیادہ وقت تک بنا رہے، تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اگر گلے پر سفید دھبے یا پیپ نظر آئیں، تو بھی پیشہ ورانہ طبی مشورہ ضروری ہے۔

اسٹیمنٹ

یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے لکھا گیا ہے اور اسے طبی مشورے کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ آیورویڈک نسخے روایتی علم پر مبنی ہیں اور ان کا اثر شخص سے شخص میں مختلف ہو سکتا ہے۔ کسی بھی گھریلو نسخے کو آزمانے سے پہلے، خاص طور پر اگر آپ حاملہ ہیں، بچوں کو علاج کر رہے ہیں، یا آپ کو پہلے سے کوئی سنگین بیماری ہے، تو اپنے ڈاکٹر یا ماہر آیورویڈک سے مشورہ ضرور کریں۔ یہ نسخے بیماری کو ٹھیک کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے، بلکہ علامات میں آرام فراہم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

ٹونسل کا سب سے مؤثر گھریلو علاج کون سا ہے؟

آیورویڈ میں نمک اور ہلدی والا گارا، ادرک اور شہد کا کڑھا، اور لونگ چوسنا ٹونسل کے لیے سب سے مؤثر اور فوری آرام دہ نسخے ہیں۔

ٹونسل کے دوران کون سی چیزیں نہیں کھانی چاہئیں؟

ٹونسل کے دوران دہی، پنیر، ٹھنڈے مشروبات، آئس کریم، تلے ہوئے کھانے، اور کھٹے پھل جیسے لیموں اور سنترے کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دینا چاہیے۔

کیا ٹونسل بچوں میں زیادہ ہوتا ہے؟

جی ہاں، ٹونسل بچوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے کیونکہ ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور وہ موسمی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ٹونسل میں کب ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے؟

اگر بخار 38.5 ڈگری سے زیادہ ہو، سانس لینے میں دشواری ہو، یا 2-3 دن تک درد میں کمی نہ آئے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

گردے کے پتھری (Kidney Stone) کا روایتی علاج: پشوان بھید اور قدرتی طریقے

گردے کے پتھری (آشمری) کا بنیادی سبب ہاضمے کی کمزوری اور واٹ دوष کا بگڑنا ہے۔ قدیم حکمت میں 'پشوان بھید' جڑی بوٹی کو پتھر توڑنے اور گردوں کی صفائی کے لیے سب سے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

نیند کی کمی اور پرسکون نیند کے لیے قدرتی آیورVEDک تدابیر

نیند کی کمی اور بے خوابی کے لیے آیورVEDک کے قدرتی علاج، غذائی تجاویز اور طرز زندگی میں تبدیلیاں جو پرسکون نیند اور بہتر صحت فراہم کرتی ہیں۔

7 منٹ پڑھنے

جوڑوں کے درد کے لیے آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور زندگی کا بہتر انداز

آیوروید کے مطابق جوڑوں کا درد 'واٹ' کے بے قابو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرم تیل کی مالش اور ہلدی کا استعمال قدرتی طور پر درد اور سوزش کو کم کرتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

آرام دہ سانس: ہلدی اور دیگر قدرتی طریقے سے دمہ کا علاج

آیورویڈ میں دمہ کو 'تَمَک شَہَس' کہا جاتا ہے جو واٹ اور کف کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ ہلدی والا گرم دودھ اور ادرک شہد کا ملاپ سانس کی نالیوں کو صاف کرنے کا سب سے سادہ اور قدرتی طریقہ ہے۔

4 منٹ پڑھنے

ہائی کولیسٹرول کا قدرتی علاج: قدیم آیورویدک گھریلو ٹوٹکے اور غذائی تدابیر

ہائی کولیسٹرول کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے ہلدی، میٹھی اور لہسن جیسی عام کچن کی چیزیں بہترین ہیں۔ قدیم آیورویدک اصولوں کے مطابق ہاضمے کی آگ کو بھڑکانا کولیسٹرول کم کرنے کی کلید ہے۔

5 منٹ پڑھنے

سائنس کی مسئلہ کا آయువیدک علاج: کھانے اور گھریلو نسخے

آayuved میں سائنس کی مسئلہ کو کپ دوष کے بڑھنے اور ہاضمے کے خراب ہونے کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلدی، ادرک اور نمک والے پانی کا استعمال ناک کے راستوں کو کھولنے اور بلغم کو خارج کرنے میں فوری مدد دیتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

حوالہ جات اور ذرائع

یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

  • • Charaka Samhita (चरक संहिता)
  • • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
  • • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
یہ ویب سائٹ صرف عمومی معلومات فراہم کرتی ہے. یہاں دی گئی معلومات طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے. کوئی بھی علاج آزمانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں

ٹونسل کا آیورویڈک علاج: علامات، اسباب اور گھریلو نسخے | AyurvedicUpchar