AyurvedicUpchar
م

منہ کے السر کے قدرتی اور آیورvedic علاج

آیورویدک جڑی بوٹی

منہ کے السر کے قدرتی اور آیورvedic علاج: مکمل رہنما

4 منٹ پڑھنے

ماہر جائزہ شدہ

AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا

تعارف

منہ کے السر، جنہیں عام طور پر 'کینکر سور' بھی کہا جاتا ہے، منہ کے اندرونی حصے یا مسوڑھوں کی جڑوں میں بننے والے چھوٹے مگر انتہائی تکلیف دہ زخم ہوتے ہیں۔ یہ زخم اکثر چند دنوں میں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی میں کھانا پینا اور بات کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ ان السر کے بنیادی اسباب کو سمجھ کر اور قدرتی طریقوں کو اپنا کر اس تکلیف سے فوری راحت حاصل کی جا سکتی ہے۔

آیورvedic نقطہ نظر

آیورvedic طب کے مطابق، منہ کے السر بنیادی طور پر 'پت دو دو ش' کے عدم توازن سے وابستہ ہیں۔ پت دو ش جسم میں حرارت، نظام انہضام اور تبدیلیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب جسم میں پت دو ش بڑھ جاتا ہے تو منہ میں تیز جلالن اور سوجن پیدا ہوتی ہے۔ قدیم کتاب 'چرک سنہتا' میں اس حالت کو 'مکھ پاک' کا نام دیا گیا ہے، جو خون کی ملاوٹ اور زہریلے مادوں (toxins) کے جمع ہونے سے جنم لیتی ہے۔ اسی طرح 'سشروت سنہتا' کے مطابق، خراب ہاضمہ اور 'آما' (نظام ہضم میں جمی ہوئی گندگی) کا جمع ہونا بھی اس بیماری کی بڑی وجہ ہے۔

عام وجوہات

1. تیز مرچ، کھٹا یا بہت زیادہ نمکین کھانوں کا کثرت سے استعمال۔
2. کھانے کے اوقات کا متعین نہ ہونا یا ناشتہ چھوڑ دینا۔
3. ذہنی دباؤ، تناؤ اور ذہنی بے چینی۔
4. گرمیوں کے موسم میں جسمانی حرارت کا بڑھ جانا۔
5. منہ کی صفائی کا خیال نہ رکھنا یا بہت سخت برش کا استعمال۔
6. جسم میں وٹامن B12 اور آئرن کی کمی۔
7. ہارمونل عدم توازن اور نیند پوری نہ کرنا۔

گھریلو اور دیسی علاج

ناریل کے پانی سے غرارے

اجزاء: ایک گلاس تازہ ناریل کا پانی (بے چینی والا یا تازہ ناریل)۔

تیاری: تازہ ناریل سے پانی نکال لیں یا بازار سے ملنے والا خالص ناریل پانی استعمال کریں۔

استعمال: دن میں تین بار کھانے کے بعد اس پانی سے دو منٹ تک غرارے کریں، یہ عمل پانچ دن تک جاری رکھیں۔

کارکردگی: ناریل کا پانی پت دو ش کو سکون دیتا ہے اور سوزش کو کم کرتا ہے۔

ہلدی اور گھی کا لیپ

اجزاء: ایک چٹکی ہلدی پاؤڈر + چار بوند گائے کا خالص گھی۔

تیاری: ہلدی اور گھی کو ملا کر گاڑھا سا پیسٹ تیار کر لیں۔

استعمال: رات کو سونے سے پہلے السر پر لگائیں اور رات بھر لگا رہنے دیں۔

کارکردگی: ہلدی سوزش کم کرتی ہے جبکہ گھی ٹھنڈک پہنچا کر جلن دور کرتا ہے۔

دھنیے کے پانی کا قوام

اجزاء: ایک چمچ دھنیے کے دانے + ایک گلاس پانی۔

تیاری: دھنیے کے دانوں کو رات بھر پانی میں بھگو دیں اور صبح چھان لیں۔

استعمال: دن میں تین بار ایک منٹ تک اس پانی سے منہ کلی کریں، یہ عمل ایک ہفتہ کریں۔

کارکردگی: دھنیا جسم کی اندرونی حرارت کو ختم کرتا ہے اور درد میں فوری سکون دیتا ہے۔

ملہٹی (یشتیمدھو) پاؤڈر

اجزاء: آدھا چمچ ملہٹی پاؤڈر + دو سے تین بوند شہد۔

تیاری: دونوں کو ملا کر اچھی طرح پیسٹ بنا لیں۔

استعمال: دن میں دو بار متاثرہ جگہ پر لگائیں، چار سے پانچ دن تک استعمال کریں۔

کارکردگی: ملہٹی منہ کی اندرونی جھلی کی حفاظت کرتی ہے اور زخم بھرنے میں مددگار ہے۔

ایلوویرا جیل

اجزاء: ایک بڑا چمچ تازہ ایلوویرا جیل۔

تیاری: پتے کو کاٹ کر اس سے جیل نکال لیں اور اس کے پیلے رنگ کے رس (لیٹیکس) کو اچھی طرح دھو کر ہٹا دیں۔

استعمال: دن میں تین بار لگائیں اور لگانے کے 15 منٹ تک کچھ کھانے پینے سے گریز کریں۔

کارکردگی: ایلوویرا جلن اور زہریلے مادوں کو ختم کرنے میں معاون ہے۔

لونگ کے تیل کا استعمال

اجزاء: ایک بوند لونگ کا ایشینشل آئل + ایک چمچ ناریل کا تیل۔

تیاری: ناریل کے تیل میں لونگ کا تیل ملا لیں۔

استعمال: دن میں دو بار روئی کی مدد سے السر پر لگائیں۔

کارکردگی: لونگ درد کش خصوصیات رکھتا ہے اور انفیکشن کو روکتا ہے۔

غذائی تجاویز

پت دو ش کو سکون دینے والی غذائیں کھائیں:
- میٹھے اور پکے ہوئے پھل (سیب، کیلا)
- کھیرا، تربوز
- بیسن کی روٹی
- دودھ اور گھی

ان چیزوں سے پرہیز کریں:
- تیز مرچیں، ٹماٹر
- کھٹے اچار، لیموں
- تلی ہوئی چیزیں اور فاسٹ فوڈ

یoga اور ورزش

1. سیتلی پranayam: یہ سانس کی مشق جسم کی اضافی حرارت کو باہر نکالنے میں مدد دیتی ہے۔
2. کوناسن: یہ آسن نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے۔
3. پدما سن: یہ ذہن کو پرسکون کر کے ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

1. دانتوں کو برش کرتے وقت نرمی سے کام لیں، سخت برشنگ سے بچیں۔
2. پت دو ش بڑھانے والی غذائیں (بہت میٹھی یا بہت نمکین) کم کھائیں۔
3. باقاعدگی سے یoga اور مراقبہ کریں تاکہ ذہنی سکون برقرار رہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

منہ کے السر کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟

آیورvedic کے مطابق پت دو ش کا بڑھنا اور جدید سائنس کے مطابق وٹامن کی کمی یا ہاضمے کی خرابی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

کیا دودھ پینے سے السر ٹھیک ہوتا ہے؟

جی ہاں، ٹھنڈا دودھ پینے یا منہ میں رکھنے سے جلالن میں کمی آتی ہے اور یہ پت دو ش کو سکون دیتا ہے۔

سرکہ کا استعمال کیا نقصان دہ ہے؟

جی ہاں، سرکہ اور دیگر کھٹی چیزیں منہ کے السر کو بڑھا سکتی ہیں، اس لیے ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

گھٹنوں کے درد کا آیورویدک علاج: قدرتی نسخے اور طرز زندگی کے تجاویز

گھٹنوں کے درد کا آیورویدک علاج 'واٹ' دوष کو پرسکون کرنے اور جوڑوں میں قدرتی چکنائی بحال کرنے پر مبنی ہے۔ ہلدی اور تل کے تیل کا استعمال سوزش کم کرتا ہے اور لمبے عرصے تک سکون دیتا ہے۔

3 منٹ پڑھنے

ماہانہ دورے کے درد کا آیورویدیک حل: قدرتی آرام اور دیکھ بھال

ماہانہ دورے کے درد کا آیورویدک علاج وٹا دوش کو متوازن کرنے پر مبنی ہے۔ ادرک اور ہلدی کا استعمال درد کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتا ہے۔

3 منٹ پڑھنے

تھائیرائڈ کے توازن کے لیے آیورvedic گھریلو ٹوٹکے

تھائیرائڈ کے مسائل جیسے تھکاوٹ اور وزن میں تبدیلی کو آیورvedic طریقوں، جڑی بوٹیوں اورライフسٹائل کی تبدیلیوں سے کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، اس کا مکمل جائزہ۔

5 منٹ پڑھنے

آیویدک وزن کم کرنے کے قدرتی طریقے: صحت مند زندگی کا مکمل گائیڈ

آیویدک وزن کم کرنے کے طریقے صرف خوراک پر نہیں بلکہ ہاضمے کی آگ کو بڑھانے اور زہریلے مادوں کو خارج کرنے پر مرکوز ہیں۔ تریفلا چکر اور ہلدی کا استعمال قدرتی طور پر چربی پگھلانے میں مدد دیتا ہے۔

6 منٹ پڑھنے

PCOS اور PCOD کے لیے روایتی علاج: ہلدی اور دوسرے قدرتی طریقے

PCOS اور PCOD کا علاج ہاضمے کو بہتر کر کے اور زہریلے مادوں کو نکال کر کیا جاتا ہے۔ ہلدی اور سونف جیسی عام جڑی بوٹیاں ہارمونز کو متوازن کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

4 منٹ پڑھنے

گردہ اور جگر کی چربی کا علاج: ہلدی، کٹکی اور تریفلا کے قدرتی فوائد

فٹی لیور (جگر کی چربی) آج کل ایک عام مسئلہ ہے جس کا علاج آیورویدک جڑی بوٹیوں جیسے ہلدی اور کٹکی سے ممکن ہے۔ اگر اسے وقت پر پکڑ لیا جائے تو جگر کو مکمل طور پر صحت مند کیا جا سکتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

حوالہ جات اور ذرائع

یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

  • • Charaka Samhita (चरक संहिता)
  • • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
  • • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
یہ ویب سائٹ صرف عمومی معلومات فراہم کرتی ہے. یہاں دی گئی معلومات طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے. کوئی بھی علاج آزمانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں