
پیریوڈز میں درد کے آیورویدی گھریلو علاج اور حل
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
تعارف
مہواری یا پیریوڈز ہر عورت کی زندگی کا ایک قدرتی چکر ہے، لیکن بہت سی عورتوں کو اس دوران پیٹ کے نچلے حصے، کمر یا جانگھوں میں شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں ڈس مینوریا کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، لیکن یہ نوجوان اور جوان عورتوں میں زیادہ عام ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 50 سے 90 فیصد عورتیں اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر پیریوڈز کے درد سے جوجھتی ہیں۔ یہ درد عام کاموں میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور ذہنی تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ اکثر سنگین نہیں ہوتا، پھر بھی اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم میں اندرونی عدم توازن کی علامت ہو سکتا ہے۔ صحیح دیکھ بھال اور قدرتی طریقوں سے اس میں کافی آرام مل سکتا ہے۔
آیورویدی نقطہ نظر
آیورود کے مطابق، پیریوڈز کے درد کا بنیادی سبب جسم میں 'واٹ दोش' کا عدم توازن ہے، خاص طور پر 'اپان وایو' کا غیر متوازن ہونا۔ چرک संहिता اور सुश्रुत संहिता جیسے قدیم گرنتھوں میں بتایا گیا ہے کہ جب ہاضمے کی آگ کمزور ہوتی ہے، تو جسم میں 'آم' (زیہریلے مواد) جمع ہو جاتے ہیں، جو خون کی نالیوں کو بند کر دیتے ہیں۔ پیریوڈز کے دوران جسم سے مل کی طرح خون کا بہاؤ ہوتا ہے، اور اگر واٹ دوش خراب ہو جائے تو یہ بہاؤ رک جاتی ہے، جس سے شدید کھنچاؤ اور درد ہوتا ہے۔ آئیورود اسے 'کرچھرا آرٹوا' کہتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ہاضمے کے نظام کی کمزوری اور طرز زندگی کی خرابی کو مੰਨتا ہے۔
عام وجوہات
پیریوڈز میں درد کے پیچھے بہت سے وجوہات ذمہ دار ہو سکتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہماری عادات سے وابستہ ہیں۔ سب سے پہلا وجہ ہاضمے کے نظام کی خرابی ہے، جو جسم میں زہریلے مادوں کو جمع کر لیتا ہے۔ دوسرا وجہ غیر منظم اور غیر متوازن غذا ہے، جیسے بہت زیادہ ٹھنڈی، خشک یا باسی چیزیں کھانا۔ تیسرا وجہ ذہنی تناؤ اور پریشانیاں ہیں، جو واٹ دوش کو فوری طور پر متاثر کرتی ہیں۔ چوتھا وجہ ورزش کی کمی یا پھر زیادہ تھکانے والی ورزش ہو سکتی ہے۔ پانچواں وجہ نیند کا غیر منظم ہونا اور دیر رات تک جاگنا ہے۔ چھٹا وجہ سردیوں میں جسم کو گرم نہ رکھنا ہے۔ ساتواں وجہ پانی کی کم مقدار پینا ہے، جس سے جسم ہائیڈریٹڈ نہیں رہ پاتا۔ آٹھواں وجہ ہارمونل تبدیلیوں کے خلاف جسم کی قدرتی ردعمل ہے، جو اکثر جینیاتی بھی ہو سکتا ہے۔
گھریلو علاج
ادرک اور شہد کا کاڑھا
Ingredients: 1 چمچ کسا ہوا ادرک، 1 کپ پانی، 1 چمچ شہد۔
Preparation: پانی میں ادرک کو 5 منٹ تک ابالیں، پھر چھان کر اس میں شہد ملائیں۔
How to Use: اسے دن میں دو بار، صبح اور شام کو ہلکا گرم پیئیں۔ پیریوڈز شروع ہونے سے 2 دن پہلے سے استعمال شروع کریں۔
Why It Works: ادرک میں سوزش روکنے والے गुण ہوتے ہیں جو واٹ دوش کو پرسکون کرتے ہیں اور گर्भاشय کی پٹھوں کے سکڑنے کو کم کرکے درد میں آرام دیتے ہیں۔
سونف اور مٹھے کا پانی
Ingredients: 1 چمچ سونف کے بیج، 1 چمچ مٹھے، 2 کپ پانی۔
Preparation: رات بھر سونف اور مٹھے کو پانی میں بھگو دیں۔ صبح اس پانی کو ہلکا گرم کریں۔
How to Use: اسے خالی پیٹ صبح کے وقت آہستہ سے پیئیں۔ اسے پیریوڈز آنے سے ایک ہفتہ پہلے سے روزانہ لیں۔
Why It Works: سونف ٹھنڈک کا اثر دیتا ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، جبکہ مٹھے جسم کو ٹھنڈک اور طاقت دیتا ہے، जिससे پیٹ کے کھنچاؤ میں آرام ملتا ہے۔
دالچینی اور شہد کا لیپ
Ingredients: آدھا چمچ دالچینی پاؤڈر، 1 چمچ شہد۔
Preparation:
دونوں کو ملाकर ایک گاڑھا لیپ بنا لیں۔ اس کو گرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔How to Use: پیریوڈز کے دوران صبح Khali pet اس کا استعمال کریں۔ اسے 3 دنوں تک مسلسل لیں۔
Why It Works:
دالچینی خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے اور اینٹی-سپاسموڈک गुणوں کی وجہ سے گर्भاشय کی کھنچاؤ کو کم کرنے میں مددگار مانی جاتی ہے۔اجوائن اور گڑ کی گولیاں
Ingredients: 1 چمچ اجوائن، 1 چھوٹا ٹکڑا گڑ۔
Preparation:
اجوائن کو ہلکا بھون لیں اور گڑ کے ساتھ مل کر چھوٹی گولیاں بنا لیں۔How to Use:
درد ہونے پر دن میں 2-3 بار ان گولیاں چباکر کھائیں۔ ساتھ میں گن گن پانی پئیں۔Why It Works: اجوائن واٹ کو ختم کرتا ہے اور گڑ خون کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ یہ امتزاج پیٹ کی گیس اور درد دونوں کو دور کرنے میں روایتی طور پر مفید ہے۔
گرم تیل کی مالش
Ingredients: 2 چمچ تل کا تیل یا ناریل کا تیل، کچھ بوندیں لیوینڈر تیل (اختیاری)۔
Preparation:
تیل کو ہلکا گرم کریں جب تک یہ بہت گرم نہ ہو جائے۔How to Use:
پیٹ کے نچلے حصے اور کمر پر गोलائی میں آہستہ سے مالش کریں۔ اسے رات کو سونے سے پہلے کریں۔Why It Works:
گرم تیل کی مالش مقامی خون کی گردش کو بڑھاتی ہے اور پٹھوں کی جکڑن کو ڈھیلا کرتی ہے، جس سے واٹ دوش پرسکون ہوتا ہے۔ہینگ اور گھی کا لیپ
Ingredients: چٹکی بھر ہینگ، آدھا چمیک دسی گھی۔
Preparation:
گھی میں ہینگ ملakar ہلکا گرم کریں تاکہ ایک گاڑھا مرکب بن جائے۔How to Use:
اس مرکب کو نাভ کے آس پاس اور پیٹ کے نچلے حصے پر لگائیں اور ہلکے ہاتھوں سے مالش کریں۔Why It Works:
ہینگ کو آیورود میں واٹ دوش کے لیے سب سے طاقتور جڑی بوٹیاں میں سے ایک مੰایا جاتا ہے، جو فوری طور پر گیس اور درد کو راحت دے سکتی ہے۔غذائی سفارشات
پیریوڈز کے دوران غذائی सामग्री کا خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس دوران گرم اور ہاضم ہونے میں آسان غذائیں جیسے دلیہ، کھیچڑی، سوپ اور ابلی ہوئی سبزیاں کھائیں۔ لوکی، طورے اور پالک جیسی سبزیاں فائدہ مند ہوتی ہیں۔ مناسب مقدار میں گرم پانی پیتے رہیں۔ اس کے برعکس، ٹھنڈی چیزیں جیسے آئس کریم، ٹھنڈا دودھ، دہی اور کچی سبزیاں کھانے سے گریز کریں۔ زیادہ نمکی، مسाले دار اور تلی ہوئی چیزیں بھی واٹ کو بڑھا سکتی ہیں، اس لیے ان کا استعمال محدود کریں۔ کیفین اور کولڈ ڈرنکس سے مکمل طور پر پرہیز کریں کیونکہ یہ ڈی ہائیڈریشن اور درد کو بڑھا سکتے ہیں۔
طرز زندگی اور یوگا
ایک منظم दिनچریہ اور تناؤ سے پاک زندگی کا انداز پیریوڈز کے درد کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یوگا میں 'بھجنگासन' (کوبر پوز)، 'بدھ کوں zdobył' (توتے کی آسن)، اور 'بالासन' (بچے کی آسن) جیسے आसن گर्भاشಯ کو مضبوط کرتے ہیں اور درد میں آرام دیتے ہیں۔ 'انولوم-ولوم' اور 'برہمری پرانایام' ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔
Disclaimer: یہ معلومات صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی علاج کو شروع کرنے سے پہلے کسی معالج یا صحت کی پیشہ ور سے مشورہ ضرور کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا پیریوڈز میں درد سے پوری طرح سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے؟
ہاں، صحیح دیکھ بھال اور آیورویدی طریقوں سے پیریوڈز کے درد سے کافی حد تک نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
کون سے کھانے سے پیریوڈز کے درد میں آرام ملتا ہے؟
گرم اور ہاضم ہونے میں آسان غذائیں جیسے دلیہ، کھیچڑی اور ابلی ہوئی سبزیاں درد میں آرام دیتے ہیں۔
کیا یوگا پیریوڈز کے درد میں مددگار ثابت ہوتا ہے؟
جی ہاں، بھجنگासन اور بالासन جیسے یوگا آسن درد میں نمایاں कमी لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
متعلقہ مضامین
جوڑوں کے درد کے لیے آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور زندگی کا بہتر انداز
آیوروید کے مطابق جوڑوں کا درد 'واٹ' کے بے قابو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرم تیل کی مالش اور ہلدی کا استعمال قدرتی طور پر درد اور سوزش کو کم کرتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
آرام دہ سانس: ہلدی اور دیگر قدرتی طریقے سے دمہ کا علاج
آیورویڈ میں دمہ کو 'تَمَک شَہَس' کہا جاتا ہے جو واٹ اور کف کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ ہلدی والا گرم دودھ اور ادرک شہد کا ملاپ سانس کی نالیوں کو صاف کرنے کا سب سے سادہ اور قدرتی طریقہ ہے۔
4 منٹ پڑھنے
ہائی کولیسٹرول کا قدرتی علاج: قدیم آیورویدک گھریلو ٹوٹکے اور غذائی تدابیر
ہائی کولیسٹرول کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے ہلدی، میٹھی اور لہسن جیسی عام کچن کی چیزیں بہترین ہیں۔ قدیم آیورویدک اصولوں کے مطابق ہاضمے کی آگ کو بھڑکانا کولیسٹرول کم کرنے کی کلید ہے۔
5 منٹ پڑھنے
سائنس کی مسئلہ کا آయువیدک علاج: کھانے اور گھریلو نسخے
آayuved میں سائنس کی مسئلہ کو کپ دوष کے بڑھنے اور ہاضمے کے خراب ہونے کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلدی، ادرک اور نمک والے پانی کا استعمال ناک کے راستوں کو کھولنے اور بلغم کو خارج کرنے میں فوری مدد دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہاسوں کے لیے آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور بنیادی وجوہات کا تجزیہ
مہاسوں کے لیے آیورویدک علاج، قدرتی طریقے، بنیادی وجوہات کا تجزیہ اور گھریلو نسخے
8 منٹ پڑھنے
مधुमेह (شوگر) کے لیے بہترین آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور زندگی کا بہتر انداز
آیوروید میں مادھومہ کو کف کے عدم توازن اور ہضم کے نظام کی کمزوری سے جوڑا گیا ہے۔ قدیم گرنتھوں کے مطابق، کڑوا کڑوا اور میٹھی کی بیجوں کا استعمال خون میں شوگر کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں