
PCOS اور PCOD کی Ayurvedic علاج: قدرتی علاج اور طرز زندگی کی رہنمائی
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
تعارف
پولی سسٹک اووری سینڈر سینڈروم (PCOS) اور پولی سسٹک اووری ڈیزیز (PCOD) عالمی سطح پر عام ہارمونل عوارض ہیں جو لاکھوں خواتین کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ بیماریاں بے قاعدہ ماہواری، وزن بڑھنا، جسم پر زائد بالوں کی نشوونما، اور fruityness میں چیلنجوں کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔ جدید طب علامات پر توجہ مرکوز کرتی ہے لیکن بہت سے خواتین ان کی بنیادی وجوہات کو دور کرنے کے لیے متکمل طریقوں کی تلاش میں ہیں۔ Ayurveda کے مطابق ان بیماریوں کا اثر جسمانی صحت، جذباتی توازن اور طویل مدتی میٹابولک افعال پر پڑتا ہے۔ قدرتی طریقوں سے جلد مداخلت سے معیار معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
Ayurveda کا نقطہ نظر
Ayurveda میں PCOS/PCOD کا بنیادی سبب کپھا اور వాతا ڈوشا کا عدم توازن ہے جس میں پتت ڈوشا کا بھی حصہ ہو سکتا ہے۔ چرکا سمہتا جیسے قدیم گرंथوں میں 'ارتوا ক্ষয়' (Artava Kshaya) کے تحت اسی طرح کے عوارض کی وضاحت کی گئی ہے۔ Ayurveda کے مطابق اس کی بنیادی وجہ 'امہ' (زہریلی مادوں کا جمع ہونا) کی وجہ سے ہونا ہے جو کمزور 'اگنی' (ہاضمہ کی طاقت) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ امہ جسم کے نالیوں ('Srotas') کو بند کر دیتا ہے جو प्रजनन کے لیے ذمہ دار ہیں۔ اس بندش کی وجہ سے بیضہ کی جھلیوں کی صحیح تشکیل نہیں ہو پاتی اور سسٹس بنتے ہیں۔ Ayurveda میں 'اگنی' کو بحال کرنا اور زہریلے مادوں کو صاف کرنا بنیادی علاج ہے۔
عام وجوہات
Ayurveda کے مطابق PCOS/PCOD کی کئی وجوہات ہیں:
- ٹھنڈی، تلی اور مصنوعی غذاؤں کی زیادہ مقدار سے کپھا ڈوشا بڑھتا ہے۔
- جسمانی سرگرمیوں کی کمی سے زہریلے مادے جمع ہوتے ہیں۔
- مستقل Orleans اور جذباتی پریشانیوں سے वाता ڈوشا کا عدم توازن ہوتا ہے جو ہارمونز کو متاثر کرتا ہے۔
- نੀਂد کے بے قاعدہ اوقات جسم کے قدرتی چکر کو خراب کرتے ہیں۔
- دودھ اور چینی کی زیادہ مقدار کپھا کو بڑھاتی ہے۔
- جنینی رجحان اور غلط طرز زندگی کا مجموعہ بھی اس میں حصہ ڈالتا ہے۔
- ماحولیاتی زہریلے مادے اور ہارمون کو متاثر کرنے والی اشیاء بھی اس میں حصہ ڈالتی ہیں۔
- طبیعت کے مطابق غرضوں کو دبا دینے سے اندرونی بندشیں پیدا ہوتی ہیں۔
گھر کی دواں
دارچینی اور شہد کا مشروب
مواد: 1 چمچ دارچینی پاؤڈر, 1 چمچ خری کا شہد, 1 کپ گرم پانی۔
تैयاری: دارچینی پاؤڈر کو گرم پانی میں ملائیں اور اچھی طرح ہلائیں۔ پانی کو ہلکا گرم ہونے پر شہد شامل کریں۔
استعمال: اس مشروب کو ہر صبح خالی پیٹ کم از کم تین مہینے تک پئیں۔
اس کی وجہ: دارچینی خون میں شکر کو کنٹرول کرتی ہے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے۔ شہد ہاضمے میں مدد کرتا ہے اور کپھا کو کم کرتا ہے۔
مٹھیا کے بیجوں کی چھانک
مواد: 1 بڑے چمچ مٹھیا کے بیج, 1 کپ پانی۔
تैयاری: مٹھیا کے بیجوں کو رات بھر پانی میں بھگو لیں۔ صبح پانی کو چھان لیں اور بھگے ہوئے بیجوں کو چبانے کے لئے لے لیں۔
استعمال: بیجوں کو صبح کے کھانے سے پہلے اور پانی کو صبح میں ہی پئیں۔
اس کی وجہ: مٹھیا ہارمونز کو متوازن کرنے اور بیضہ کے صحیح کام میں مدد کرتا ہے اور 'امہ' کو کم کرتا ہے۔
اشوگندھا دودھ ٹونک
مواد: ½ چمچ اشوگندھا پاؤڈر، 1 کپ گرم دودھ (گائے یا پودوں سے حاصل)، ہلکا سا ہلدی۔
تैयاری: دودھ کو گرم کریں، اشوگندھا پاؤڈر اور ہلدی کو مکمل طور پر گھول لیں۔
استعمال: اس ٹونک کو ہر رات سونے سے پہلے پئیں اور دو سے تین مہینے تک جاری رکھیں۔
اس کی وجہ: اشوگندھا ایک ایڈاپٹوجین ہے جو تناؤ کی وجہ سے ہونے والے ہارمونل عدم توازن کو کم کرتا ہے اور वातا ڈوشا کو مدد کرتا ہے۔
غذائی سفارشات
PCOS/PCOD کے انتظام کے لیے متوازن غذا بہت ضروری ہے۔ گرم اور پکی ہوئی غذاؤں پر توجہ دیں جو ہاضم کرنے میں آسان ہوں جیسے منگ ڈال، کوئنووا اور سبزیاں۔ ہضمے کو بہتر بنانے کے لیے ادویات جیسے ادھک، ذیئم اور سونف شامل کریں۔ ٹھنڈی مشروبات، ریفائن شدہ شکر، مصنوعی اسنیکس اور زیادہ دودھ سے گریز کریں کیونکہ یہ کپھا اور 'امہ' کو بڑھاتے ہیں۔ باقاعدہ اوقات پر کھانا اور زیادہ کھانے سے گریز کرنا میٹابولک استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ دن بھر گرم پانی پینا زہریلے مادوں کو باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔
طرز زندگی اور یوگا
یوگا کی مخصوص آسنز ہارمونل توازن میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔ روزانہ بھوجنگ آسن (کوبرا پوز)، धनुासन (دھنوس پوز) اور بڑھکوناسن (تتلی پوز) کی مشق প্রজনن اعضاء کو متحرک کرتی ہے اور ...
Disclaimer: یہ معلومات صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی علاج شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ Ayurvedic علاج کو پوری طرح سے علاج کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا Ayurvedic علاج PCOS/PCOD کو مکمل طور پر ٹھیک کر سکتے ہیں؟
Ayurvedic علاج علامات کو کم کرنے اور ہارمونل توازن کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر ٹھیک کرنے کا وعدہ نہیں کیا جا سکتا۔ علاج کے دوران معالج کی نگرانی ضروری ہے۔
متعلقہ مضامین
جوڑوں کے درد کے لیے آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور زندگی کا بہتر انداز
آیوروید کے مطابق جوڑوں کا درد 'واٹ' کے بے قابو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرم تیل کی مالش اور ہلدی کا استعمال قدرتی طور پر درد اور سوزش کو کم کرتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
آرام دہ سانس: ہلدی اور دیگر قدرتی طریقے سے دمہ کا علاج
آیورویڈ میں دمہ کو 'تَمَک شَہَس' کہا جاتا ہے جو واٹ اور کف کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ ہلدی والا گرم دودھ اور ادرک شہد کا ملاپ سانس کی نالیوں کو صاف کرنے کا سب سے سادہ اور قدرتی طریقہ ہے۔
4 منٹ پڑھنے
ہائی کولیسٹرول کا قدرتی علاج: قدیم آیورویدک گھریلو ٹوٹکے اور غذائی تدابیر
ہائی کولیسٹرول کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے ہلدی، میٹھی اور لہسن جیسی عام کچن کی چیزیں بہترین ہیں۔ قدیم آیورویدک اصولوں کے مطابق ہاضمے کی آگ کو بھڑکانا کولیسٹرول کم کرنے کی کلید ہے۔
5 منٹ پڑھنے
سائنس کی مسئلہ کا آయువیدک علاج: کھانے اور گھریلو نسخے
آayuved میں سائنس کی مسئلہ کو کپ دوष کے بڑھنے اور ہاضمے کے خراب ہونے کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلدی، ادرک اور نمک والے پانی کا استعمال ناک کے راستوں کو کھولنے اور بلغم کو خارج کرنے میں فوری مدد دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہاسوں کے لیے آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور بنیادی وجوہات کا تجزیہ
مہاسوں کے لیے آیورویدک علاج، قدرتی طریقے، بنیادی وجوہات کا تجزیہ اور گھریلو نسخے
8 منٹ پڑھنے
مधुमेह (شوگر) کے لیے بہترین آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور زندگی کا بہتر انداز
آیوروید میں مادھومہ کو کف کے عدم توازن اور ہضم کے نظام کی کمزوری سے جوڑا گیا ہے۔ قدیم گرنتھوں کے مطابق، کڑوا کڑوا اور میٹھی کی بیجوں کا استعمال خون میں شوگر کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں