
کھانسی کا گھریلو علاج: آیورویدک نسخے اور اسیات
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
تعارف
کھانسی (Cough) جسم کی ایک فطری ردعمل ہے جو سانس کی نالی میں جمع کھانسی، دھول یا دیگر ذرات کو باہر نکالنے کا کام کرتی ہے۔ یہ مسئلہ عمر اور جنس کی حدود کے بغیر کسی کو بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر موسم بدلنے کے دوران۔ اگرچہ یہ اکثر ہلکی سمجھی جاتی ہے، لیکن مسلسل برقرار رہنے والی کھانسی نیند اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ صحیح وقت پر گھریلو اسیات اور احتیاط برتنے سے اسے سنگین ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور سانس لینے کے نظام کو صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔
آیوروید کا نقطہ نظر
آیوروید کے مطابق، کھانسی یا 'کاس' بنیادی طور پر ویت اور کپ دووشوں کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ چرک سمہتا میں بیان کیا گیا ہے کہ جب جسم میں ویت دووش بڑھتا ہے، تو یہ کپ کو بے چین کر کے پھیپھڑوں اور گلے میں رکاوٹ ڈالتا ہے، جس سے کھانسی ہوتی ہے۔ آیوروید اسے صرف ایک علامت نہیں، بلکہ ہاضمہ کی آگ کے کمزور ہونے اور زہریلے مادوں (آم) کے جمع ہونے کی علامت مانتا ہے۔ لہذا، جڑ سے علاج کے لیے دووشوں کو متوازن کرنا اور ہاضمہ کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
عام وجوہات
کھانسی کے پیچھے کئی عوامل ذمہ دار ہو سکتے ہیں، جن میں سے کچھ اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
- موسم میں تبدیلی: سردیوں یا بارش کے موسم میں ٹھنڈی ہوا اور نمی کپ دووش کو بڑھاتی ہے۔
- نامناسب غذا: ٹھنڈے مشروبات، دہی، اور بھاری کھانا ہضم ہونے میں تاخیر کر کے کپ جمع کرتے ہیں۔
- دھول اور آلودگی: آلودہ ہوا سانس کی نالی میں جلن پیدا کرتی ہے۔
- انفیکشن: وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن گلے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔
- تمباکو نوشی: سگریٹ کا دھواں پھیپھڑوں کی جھلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
- الرجی: دھول، پولن یا پالتو جانوروں کے بال الرجک کھانسی کا سبب بنتے ہیں۔
- ذہنی دباؤ: زیادہ دباؤ ویت دووش کو بڑھا کر خشک کھانسی پیدا کر سکتا ہے۔
گھریلو اسیات
شہد اور کالی مرچ
اجزاء: 1 چمچ کچا شہد اور آدھا چمچ پیسی ہوئی کالی مرچ۔
تیاری: دونوں اجزاء کو ایک چھوٹے پیالی میں ملا کر گاڑھا پیسٹ بنا لیں۔
استعمال کا طریقہ: اسے دن میں دو بار، صبح اور شام کو آہستہ آہستہ چاٹیں۔ اسے نگلنے سے پہلے منہ میں کچھ دیر رکھیں۔
کیوں کام کرتا ہے: شہد گلے کو نمی فراہم کرتا ہے اور کالی مرچ ویت کو پرسکون کرتی ہے، جو مل کر کھانسی میں آرام دیتی ہے۔
ادرک اور تولسی کا کاڑھا
اجزاء: 1 انچ کٹا ہوا ادرک، 5-6 تولسی کے پتے، 1 گلاس پانی۔
تیاری: پانی میں ادرک اور تولسی ڈال کر ابالیں جب تک کہ پانی آدھا نہ رہ جائے۔
استعمال کا طریقہ: اسے چھان کر گونگولا دن میں دو بار پئیں۔ ضرورت کے مطابق تھوڑا شہد ملا سکتے ہیں۔
کیوں کام کرتا ہے: ادرک اور تولسی دونوں میں اینٹی-انفلیمٹری خصوصیات ہوتی ہیں جو سانس کے راستوں کو کھولتی ہیں اور کپ کو پتلا کرتی ہیں۔
ہلدی والا دودھ
اجزاء: 1 گلاس دودھ اور آدھا چمچ ہلدی پاؤڈر۔
تیاری: دودھ کو ہلکا گرم کریں اور اس میں ہلدی ملا کر اچھی طرح گھول لیں۔
استعمال کا طریقہ: رات کو سونے سے پہلے گرم دودھ آہستہ آہستہ پئیں۔
کیوں کام کرتا ہے: ہلدی قدرتی اینٹی سیپٹک ہے جو گلے کی سوزش کم کرتی ہے اور رات بھر گلے کو آرام دیتی ہے۔
مولیٹی (Licorice) چوسنا
اجزاء: مولیٹی کی ایک چھوٹی ڈنڈی یا آدھا چمچ مولیٹی پاؤڈر۔
تیاری: اگر پاؤڈر ہے تو تھوڑے پانی میں ملا کر پیسٹ بنا لیں، ورنہ ڈنڈی براہ راست استعمال کریں۔
استعمال کا طریقہ: دن میں 2-3 بار مولیٹی کو منہ میں رکھ کر چوسیں یا پیسٹ کو آہستہ آہستہ نگلیں۔
کیوں کام کرتا ہے: مولیٹی گلے کی جلن اور خارش کو فوری پرسکون کرتی ہے اور بلغم کو باہر نکالنے میں مددگار مانی جاتی ہے۔
لونگ اور کالی مرچ کا کاڑھا
اجزاء: 4-5 لونگ، 5 کالی مرچ، 1 گلاس پانی۔
تیاری: اجزاء کو پانی میں ابال کر آدھا کر لیں اور چھان لیں۔
استعمال کا طریقہ: اس کاڑھے کو دن میں دو بار گونگولا پئیں۔
کیوں کام کرتا ہے: لونگ اور کالی مرچ دونوں ہی ویت اور کپ دووش کو متوازن کرتے ہیں اور گلے کی پٹھوں کو ڈھیل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
سیب کا سرکہ اور شہد
اجزاء: 1 چمچ سیب کا سرکہ، 1 چمچ شہد، آدھا گلاس گونگولا پانی۔
تیاری: گونگولے پانی میں سرکہ اور شہد ملا کر محلول تیار کریں۔
استعمال کا طریقہ: اسے دن میں ایک بار خالی پیٹ یا کھانسی آنے پر پئیں۔
کیوں کام کرتا ہے: سیب کا سرکہ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات سے بھرپور ہوتا ہے جو گلے کے انفیکشن سے لڑنے میں جسم کی مدد کرتا ہے۔
غذائی تجاویز
کھانسی کے دوران ہلکا اور ہضم ہونے والی غذا کھانا انتہائی ضروری ہے۔ دلیہ، کچھڑی، ابلی ہوئی سبزیاں اور سوپ جیسے اشیا کا استعمال کریں کیونکہ یہ ہاضمہ کی آگ کو بڑھاتے ہیں۔ ادرک، لہسن اور کالی مرچ کا استعمال کھانے میں بڑھائیں۔ اس کے برعکس، دہی، ٹھنڈا دودھ، تلی ہوئی چیزیں، میٹھا اور بھاری اناج (جیسے میدہ) کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں، کیونکہ یہ کپ کو گاڑھا کرتے ہیں اور کھانسی کو بڑھا سکتے ہیں۔
زندگی اور یوگا
زندگی طرز میں کچھ تبدیلیاں کھانسی سے جلدی آرام دلا سکتی ہیں۔ باقاعدگی سے 'انولم-ویلوم' اور 'بھسٹریکا' پرانایم کریں جو پھیپھڑوں کی صلاحیت بڑھاتے ہیں۔ یوگا میں 'بھوجنگاسن' اور 'ماتسےاسن' جیسے آسن سانس لینے کے نظام کو کھولنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ گرم پانی سے نہائیں اور گلے کو سردی سے بچانے کے لیے کھال یا اسکارف کا استعمال کریں۔ پر्याप्त نیند لیں اور دھول دھوئے سے دور رہیں۔
ڈاکٹر سے کب ملیں
اگر کھانسی دو ہفتے سے زیادہ وقت تک برقرار رہے، ساتھ میں بخار، سانس لینے میں تکلیف، سینے میں درد، یا بلغم میں خون آئے، تو فوراً طبی مدد لیں۔ یہ کسی سنگین انفیکشن یا دیگر بنیادی حالت کی علامت ہو سکتی ہے جس کے لیے پیشہ ورانہ تشخیص ضروری ہے۔
استعفیٰ
یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے طبی مشورہ، تشخیص یا علاج کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔ آیورویدک اسیات روایتی علم پر مبنی ہیں اور فرد سے فرد میں اثر مختلف ہو سکتا ہے۔ کسی بھی گھریلو علاج کو آزمانے سے پہلے، خاص طور پر اگر آپ حاملہ ہیں، بچوں کو علاج دے رہے ہیں، یا پہلے سے کوئی دوا لے رہے ہیں، تو براہ کرم اپنے ڈاکٹر یا مستند آیورویدک ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کھانسی میں کون سی چیز کھانی چاہیے؟
کھانسی میں ہلکی اور ہضم ہونے والی غذا جیسے دلیہ، کچھڑی، ابلی ہوئی سبزیاں اور شہد کا استعمال مفید ہے۔
کیا کھانسی میں ٹھنڈا پانی پینا چاہیے؟
نہیں، کھانسی میں ٹھنڈا پانی یا مشروبات بالکل نہیں پینا چاہیے کیونکہ یہ کپ کو بڑھاتا ہے۔ ہمیشہ گونگولا پانی پئیں۔
شہد اور کالی مرچ کا استعمال کیوں مفید ہے؟
شہد گلے کو نمی دیتا ہے اور کالی مرچ ویت کو کم کرتی ہے، جو مل کر کھانسی میں فوری آرام پہنچاتے ہیں۔
کھانسی کتنے دن میں ٹھیک ہو جاتی ہے؟
ہلکی کھانسی گھریلو اسیات سے 3 سے 5 دن میں ٹھیک ہو سکتی ہے، لیکن اگر 2 ہفتے سے زیادہ رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
متعلقہ مضامین
منہ کے السر کے قدرتی اور آیورvedic علاج: مکمل رہنما
منہ کے السر یا کینکر سور سے نجات کے لیے آیورvedic طریقے، قدرتی گھریلو ٹوٹکے، غذائی مشورے اور احتیاطی تدابیر پر مشتمل مکمل رہنما۔
4 منٹ پڑھنے
گھٹنوں کے درد کا آیورویدک علاج: قدرتی نسخے اور طرز زندگی کے تجاویز
گھٹنوں کے درد کا آیورویدک علاج 'واٹ' دوष کو پرسکون کرنے اور جوڑوں میں قدرتی چکنائی بحال کرنے پر مبنی ہے۔ ہلدی اور تل کے تیل کا استعمال سوزش کم کرتا ہے اور لمبے عرصے تک سکون دیتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
ماہانہ دورے کے درد کا آیورویدیک حل: قدرتی آرام اور دیکھ بھال
ماہانہ دورے کے درد کا آیورویدک علاج وٹا دوش کو متوازن کرنے پر مبنی ہے۔ ادرک اور ہلدی کا استعمال درد کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اور ہاضمے کو بہتر بناتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
تھائیرائڈ کے توازن کے لیے آیورvedic گھریلو ٹوٹکے
تھائیرائڈ کے مسائل جیسے تھکاوٹ اور وزن میں تبدیلی کو آیورvedic طریقوں، جڑی بوٹیوں اورライフسٹائل کی تبدیلیوں سے کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، اس کا مکمل جائزہ۔
5 منٹ پڑھنے
آیویدک وزن کم کرنے کے قدرتی طریقے: صحت مند زندگی کا مکمل گائیڈ
آیویدک وزن کم کرنے کے طریقے صرف خوراک پر نہیں بلکہ ہاضمے کی آگ کو بڑھانے اور زہریلے مادوں کو خارج کرنے پر مرکوز ہیں۔ تریفلا چکر اور ہلدی کا استعمال قدرتی طور پر چربی پگھلانے میں مدد دیتا ہے۔
6 منٹ پڑھنے
PCOS اور PCOD کے لیے روایتی علاج: ہلدی اور دوسرے قدرتی طریقے
PCOS اور PCOD کا علاج ہاضمے کو بہتر کر کے اور زہریلے مادوں کو نکال کر کیا جاتا ہے۔ ہلدی اور سونف جیسی عام جڑی بوٹیاں ہارمونز کو متوازن کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
4 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں