AyurvedicUpchar
گیس کا گھریلو علاج — آیورویدک جڑی بوٹی

گیس کا گھریلو علاج: آیورویدک نسخے اور اقدامات

6 منٹ پڑھنے

ماہر جائزہ شدہ

AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا

تمہید

پیٹ میں گیس بننا یا 'بلونگ' ہونا ایک ایسی مسئلہ ہے جس کا سامنا آج کل تقریباً ہر دوسرا شخص کرتا ہے۔ جب ہمارے ہاضمہ نظام (digestive system) میں ہوا جم جاتی ہے، تو پیٹ پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے، کبھی کبھی درد بھی ہوتا ہے اور چڑچڑاپن آ جاتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف بڑھاپے میں نہیں، بلکہ نوجوانوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر اسے نظر انداز کیا جائے، تو یہ قبض، ایسڈیٹی اور پیٹ کے گمبھیر امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے، وقت پر اس کا علاج کرنا اور اپنے کھانے پینے کی عادات میں بہتر کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم صحت مند اور چست رہیں۔

آیوروید کا نقطہ نظر

آیوروید کے مطابق، پیٹ میں گیس بننا مکمل طور پر 'واٹا دوشا' کے عدم توازن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب جسم میں واٹا بڑھ جاتی ہے، تو ہاضمہ کی آگ کمزور پڑ جاتی ہے، جسے آیوروید میں 'مندگنی' کہا گیا ہے۔ چارک سمہتہ میں واضح کہا گیا ہے کہ جب ہمار ہاضمہ طاقت خراب ہوتی ہے، تو کھانا نہیں پکتا اور اس سے 'آما' زہر بن جاتا ہے جو گیس اور سوجن پیدا کرتا ہے۔ سشروت سمہتہ میں بھی بتایا گیا ہے کہ غیر منظم کھانے پینے اور ذہنی دباؤ سے واٹا پرکوپت ہوتی ہے۔ اس لیے، آیوروید صرف علامات کو دبانے پر نہیں، بلکہ بنیادی سبب کو دور کرنے اور آگنی کو مضبوط کرنے پر زور دیتا ہے۔

عام وجوہات

گیس کے مسئلے کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی اور کھانے پینے کی عادات سے جڑی ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ کھانے کو اچھی طرح نہ چبا کر جلدی جلدی نگلنا ہے، جس سے ہوا پیٹ میں چلی جاتی ہے۔ دوسری وجہ متضاد اہار لینا ہے، جیسے دودھ کے ساتھ نمک یا پھل کھانا۔ تیسری وجہ دن بھر پانی کم پینا اور رات کو دیر سے بھاری رات کا کھانا کھانا ہے۔ چوتھی وجہ ورزش کی کمی اور دن بھر ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا ہے۔ پانچویں وجہ زیادہ ٹھنڈی چیزیں جیسے آئس کریم یا ٹھنڈا پانی پینا ہے جو ہاضمہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ چھٹی وجہ ذہنی دباؤ اور فکر ہے جو براہ راست پیٹ کی کارکردگی پر اثر ڈالتی ہے۔ ساتویں وجہ سونے کے فوراً بعد کھانا کھانا ہے۔ آخری وجہ موسم میں اچانک تبدیلی اور سردی میں جسم کو گرم نہ رکھنا ہے۔

گھریلو نسخے

ادرک اور لیموں کا رس

اجزاء: آدھا چمچ تازہ ادرک کا رس، آدھا چمچ لیموں کا رس، اور چٹکی بھر کالا نمک۔

تیاری: دونوں رسوں کو مکس کریں اور اس میں کالا نمک ملائیں۔

استعمال کا طریقہ: کھانے کے فوراً بعد اس کا استعمال کریں۔ اسے ہفتے میں 3-4 بار لے سکتے ہیں۔

کیوں کام کرتا ہے: ادرک ہاضمہ کی آگ کو تیز کرتا ہے اور لیموں واٹا کو پرسکون کرتا ہے، جس سے گیس باہر نکلتی ہے۔

سونف اور مشری کا پانی

اجزاء: ایک چمچ سونف، آدھا چمچ مشری، اور ایک کٹورہ گنگنا پانی۔

تیاری: سونف اور مشری کو گنگنے پانی میں 10 منٹ کے لیے بھگو کر رکھیں۔

استعمال کا طریقہ: صبح خالی پیٹ یا کھانے کے بعد چھان کر پی لیں۔

کیوں کام کرتا ہے: سونف ٹھنڈی طبیعت کی ہوتی ہے جو پیٹ کی جلن اور گیس دونوں کو پرسکون کرتی ہے اور ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے۔

ہینگ کا لپیٹا ہوا

اجزاء: چٹکی بھر ہینگ، آدھا چمچ گھی یا سرسوں کا تیل۔

تیاری: ہینگ کو گھی یا تیل میں ملا کر ایک پتلا پیسٹ بنا لیں۔

استعمال کا طریقہ: اس پیسٹ کو ناف کے آس پاس اور پیٹ پر ہلکا گرم کر کے لگائیں اور ہلکے ہاتھوں سے مالش کریں۔

کیوں کام کرتا ہے: ہینگ واٹا دوشا کے لیے سب سے بہترین مانی جاتی ہے اور لگانے سے پیٹ کی ماروں میں فوراً آرام ملتا ہے۔

دھنیا کا پانی

اجزاء: ایک چمچ دھنیا بیج اور دو کٹورے پانی۔

تیاری: دھنیا بیج کو پانی میں ابال لیں جب تک پانی آدھا نہ رہ جائے، پھر چھان لیں۔

استعمال کا طریقہ: دن میں دو بار گنگنا گنگنا پئیں، خاص طور پر دوپہر کے کھانے کے بعد۔

کیوں کام کرتا ہے: دھنیا ہاضمہ نظام کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور سوجی ہوئی آنتوں کو پرسکون کر کے گیس نکلنے میں مدد کرتا ہے۔

زیرو اور اجوائن کا کڑھا

اجزاء: آدھا چمچ زیرہ، آدھا چمچ اجوائن، اور ایک کٹورہ پانی۔

تیاری: دونوں مسالوں کو پانی میں ابال کر آدھا کر لیں اور چھان لیں۔

استعمال کا طریقہ: جب بھی پیٹ پھولنے لگے، گنگنا کڑھا پئیں۔ اسے روزانہ صبح بھی لے سکتے ہیں۔

کیوں کام کرتا ہے: اجوائن اور زیرہ دونوں ہی گیس ختم کرنے والے ہیں جو گیس بننے سے روکتے ہیں اور بچے ہوئے کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

گنگنا پانی اور ہینگ

اجزاء: ایک گلاس گنگنا پانی اور چٹکی بھر ہینگ۔

تیاری: گنگنے پانی میں ہینگ کو اچھی طرح گھول لیں۔

استعمال کا طریقہ: رات کو سونے سے پہلے یا پیٹ درد ہونے پر پئیں۔

کیوں کام کرتا ہے: گنگنا پانی واٹا کو پرسکون کرتا ہے اور ہینگ اس کا اثر بڑھا کر پیٹ کی گیس اور قبض کو دور کرتی ہے۔

غذائی تجاویز

گیس سے بچنے کے لیے اپنے اہار میں ہلکا اور گنگنا کھانا شامل کریں۔ پرانی گھی، مونگ کی دال، لوئی، توری، اور پکے ہوئے پپیتے کا استعمال کریں کیونکہ یہ جلدی ہضم ہوتے ہیں۔ صبح اٹھ کر گنگنا پانی پینا اور دن بھر گرم پانی پینا فائدہ مند ہے۔ دوسری طرف، میدہ سے بنی چیزیں، تیل مصالحہ والا کھانا، زیادہ مرچ مصالحہ، ٹھنڈا دودھ، راجما، چنے اور کچی سبزیوں سے پرہیز کریں۔ رات کا کھانا سونے سے کم از کم 2-3 گھنٹے پہلے کھا لیں اور رات کو دودھ کے ساتھ نمک یا کھٹے پھل نہ کھائیں۔

زندگی کا انداز اور یوگا

نظمی ورزش اور یوگا گیس کے مسئلے میں معجزاتی نتائج دے سکتے ہیں۔ پونمکتاسانا (ہوا خارج کرنے والا پوز)، بھونگاسانا (کوبرا پوز)، اور وجراسانا (تھنڈر بولٹ پوز) جیسے آسن روزانہ کریں۔ انولوم ویلوم اور بھرماری پرانایم ذہن کو پرسکون کر کے ہاضمہ کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔ دن میں کم از کم 30 منٹ پیدل چلیں اور کھانے کے فوراً بعد نہ لیٹیں۔ نظامی نیند اور دباؤ سے پاک رہنا بھی ضروری ہے۔

ڈاکٹر کو کب دکھائیں

اگر گھریلو علاج کے باوجود گیس میں آرام نہ آئے، یا پیٹ میں تیز درد، الٹی، پاخانے میں خون آنا، یا وزن میں اچانک کمی جیسی علامات نظر آئیں، تو فوراً معالج سے رابطہ کریں۔ یہ علامات کسی گمبھیر اندرونی مسئلے کی نشاندہی ہو سکتی ہیں جسے فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

استغنا

یہ مضمون صرف معلومات کے مقاصد کے لیے ہے اور اسے طبی مشورے کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ کسی بھی نسخے کو شروع کرنے سے پہلے اپنے آیورویدک معالج یا ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لیں۔ یہ نسخے امراض کا علاج نہیں کرتے، بلکہ علامات میں آرام فراہم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

گیس کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟

گیس کی سب سے بڑی وجہ جلدی کھانا، کھانے کو اچھی طرح نہ چبانا، اور غیر منظم کھانے پینے کی عادات ہیں جو واٹا دوشا کو بڑھاتی ہیں۔

کیا ہینگ کا استعمال گیس کے لیے مفید ہے؟

جی ہاں، ہینگ واٹا دوشا کو کم کرنے اور پیٹ کی گیس کو خارج کرنے کے لیے آیوروید میں سب سے بہترین علاج مانا جاتا ہے۔

گیس کے لیے کون سا یوگا آسن بہترین ہے؟

پونمکتاسانا (ہوا خارج کرنے والا پوز) گیس کو خارج کرنے کے لیے سب سے مؤثر یوگا آسن ہے۔

کیا میں دودھ اور نمک ایک ساتھ کھا سکتا ہوں؟

نہیں، آیوروید کے مطابق دودھ اور نمک کا ملا جلا کھانا 'ویروڈھ اہار' ہے جو گیس اور ہاضمے کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔

متعلقہ مضامین

گردے کے پتھری (Kidney Stone) کا روایتی علاج: پشوان بھید اور قدرتی طریقے

گردے کے پتھری (آشمری) کا بنیادی سبب ہاضمے کی کمزوری اور واٹ دوष کا بگڑنا ہے۔ قدیم حکمت میں 'پشوان بھید' جڑی بوٹی کو پتھر توڑنے اور گردوں کی صفائی کے لیے سب سے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

نیند کی کمی اور پرسکون نیند کے لیے قدرتی آیورVEDک تدابیر

نیند کی کمی اور بے خوابی کے لیے آیورVEDک کے قدرتی علاج، غذائی تجاویز اور طرز زندگی میں تبدیلیاں جو پرسکون نیند اور بہتر صحت فراہم کرتی ہیں۔

7 منٹ پڑھنے

جوڑوں کے درد کے لیے آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور زندگی کا بہتر انداز

آیوروید کے مطابق جوڑوں کا درد 'واٹ' کے بے قابو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرم تیل کی مالش اور ہلدی کا استعمال قدرتی طور پر درد اور سوزش کو کم کرتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

آرام دہ سانس: ہلدی اور دیگر قدرتی طریقے سے دمہ کا علاج

آیورویڈ میں دمہ کو 'تَمَک شَہَس' کہا جاتا ہے جو واٹ اور کف کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ ہلدی والا گرم دودھ اور ادرک شہد کا ملاپ سانس کی نالیوں کو صاف کرنے کا سب سے سادہ اور قدرتی طریقہ ہے۔

4 منٹ پڑھنے

ہائی کولیسٹرول کا قدرتی علاج: قدیم آیورویدک گھریلو ٹوٹکے اور غذائی تدابیر

ہائی کولیسٹرول کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے ہلدی، میٹھی اور لہسن جیسی عام کچن کی چیزیں بہترین ہیں۔ قدیم آیورویدک اصولوں کے مطابق ہاضمے کی آگ کو بھڑکانا کولیسٹرول کم کرنے کی کلید ہے۔

5 منٹ پڑھنے

سائنس کی مسئلہ کا آయువیدک علاج: کھانے اور گھریلو نسخے

آayuved میں سائنس کی مسئلہ کو کپ دوष کے بڑھنے اور ہاضمے کے خراب ہونے کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلدی، ادرک اور نمک والے پانی کا استعمال ناک کے راستوں کو کھولنے اور بلغم کو خارج کرنے میں فوری مدد دیتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

حوالہ جات اور ذرائع

یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

  • • Charaka Samhita (चरक संहिता)
  • • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
  • • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
یہ ویب سائٹ صرف عمومی معلومات فراہم کرتی ہے. یہاں دی گئی معلومات طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے. کوئی بھی علاج آزمانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں

گیس کا آیورویدک علاج: گھریلو نسخے اور غذائی تجاویز | AyurvedicUpchar