
اسمہ کا آیورویدک علاج: گھر پر بنائیں اوپائے اور جانیں مکمل رہنمائی
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
تمہید
اسمہ، جسے آیوروید میں 'تمک شہس' کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ایسی طویل مدتی سانس کی بیماری ہے جس میں سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن اور بار بار کھانسی آنے جیسے علامات دیکھی جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے آلودگی اور بدلتی ہوئی زندگی کے انداز کی وجہ سے یہ مسئلہ بچوں سے لے کر بزرگوں تک تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ صرف ایک جسمانی تکلیف نہیں ہے، بلکہ یہ شخص کی روزمرہ سرگرمیوں اور نیند کی معیار کو بھی متاثر کرتی ہے۔ وقت پر اور صحیح سمت میں کیے گئے اوپائے اس کی شدت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور مریض کو ایک عام زندگی گزارنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
آیوروید کا نقطہ نظر
آیوروید کے قدیم گرنتھوں، خاص طور پر چرک سمہتا اور سشروت سمہتا کے مطابق، اسمہ بنیادی طور پر 'واٹ' اور 'کف' دو دوشوں کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ہاضمہ کی آگ کمزور ہو جاتی ہے، تو جسم میں 'آم' (زہریلے مادے) بنتا ہے جو پھیپھڑوں اور سانس کے راستوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ اسے آیوروید میں 'تمک شہس' کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے دم گھٹنے والا سانس لینا۔ بنیادی وجہ صرف بیرونی عوامل نہیں، بلکہ جسم کے اندرونی توازن کا بگڑنا ہے۔ جب کف واٹ کے ساتھ مل کر پھیپھڑوں کے راستے کو بند کر دیتا ہے، تو سانس لینے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ لہذا، علاج کا بنیادی مقصد دو دوشوں کو پرسکون کرنا اور جمے ہوئے کف کو باہر نکالنا ہوتا ہے۔
عام وجوہات
اسمہ کے حملوں کے پیچھے کئی عوامل ذمہ دار ہو سکتے ہیں، جن میں خوراک، زندگی کا انداز اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ سب سے پہلے، ہضم نہ ہونے والا کھانا اور ٹھنڈی چیزوں کا استعمال کف کو بڑھاتا ہے۔ دوسرا، دھول، دھواں اور پولن کے ذرات جیسے الرجین کا رابطہ۔ تیسرا، انتہائی سرد یا نمی والا موسم۔ چوتھا، ذہنی دباؤ اور فکر، جو واٹ دو دوش کو بھڑکاتی ہے۔ پانچواں، دن میں سونا یا رات میں دیر تک جاگنا۔ چھٹا، ورزش کی کمی یا انتہائی ورزش۔ ساتواں، تمباکو نوشی اور شراب کا استعمال۔ آٹھواں، جینیاتی عوامل بھی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر سانس کی نظام کو کمزور کرتے ہیں اور اسمہ کے دورے کا باعث بنتے ہیں۔
گھریلو اوپائے
ادرک اور شہد کا کڑھا
اجزاء: 1 چمچ تازہ ادرک کا رس، 1 چمچ خالص شہد، آدھا کپ نیم گرم پانی۔
تیاری: سب سے پہلے ادرک کو کدوکس کر کے اس کا رس نچوڑ لیں۔ اب اس رس میں شہد ملائیں اور اسے نیم گرم پانی میں گھول دیں۔ مکسچر کو اچھی طرح ہلائیں تاکہ یہ یکساں ہو جائے۔
استعمال کا طریقہ: اس مکسچر کو دن میں دو بار، صبح اور شام خالی پیٹ استعمال کریں۔ اسے مسلسل 2-3 ہفتوں تک استعمال کرنے سے فائدہ مل سکتا ہے۔
کیوں کام کرتا ہے: ادرک واٹ اور کف دونوں کو پرسکون کرتا ہے اور سانس کے راستوں کو کھولنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے، جبکہ شہد گلے کو نمی فراہم کرتا ہے۔
لونگ اور تلسی کی چائے
اجزاء: 4-5 تلسی کے پتے، 4-5 لونگ، 1 کپ پانی، کالی مرچ کی چٹکی بھر۔
تیاری: ایک برتن میں پانی ڈالیں اور اس میں تلسی کے پتے، لونگ اور کالی مرچ ڈال کر ابالیں۔ جب پانی آدھا رہ جائے، تو اسے چھان لیں۔
استعمال کا طریقہ: اس چائے کو دن میں دو بار نیم گرم کر کے پئیں۔ سردیوں کے موسم میں اس کا استعمال خاص طور پر مفید ہو سکتا ہے۔
کیوں کام کرتا ہے: تلسی قدرتی اینٹی الرجک ہے اور لونگ سانس کے راستوں کی سوزش کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے، جو سانس لینے کو آسان بناتا ہے۔
ہلدی والا دودھ
اجزاء: 1 کپ دودھ (گائے کا)، آدھا چمچ ہلدی پاؤڈر، کالی مرچ کی چٹکی بھر۔
تیاری: دودھ کو ایک برتن میں گرم کریں۔ جب یہ ابلنے لگے، تو اس میں ہلدی اور کالی مرچ ملائیں اور 2-3 منٹ تک پکائیں۔
استعمال کا طریقہ: رات کو سونے سے پہلے اس دودھ کو نیم گرم کر کے پئیں۔ اسے روزانہ رات میں لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
کیوں کام کرتا ہے: ہلدی میں کرکومین ہوتا ہے جو سوزش کے خلاف خصوصیات سے بھرپور ہے اور کف کو پتلا کر کے باہر نکالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔
لہسن کا دودھ
اجزاء: 3-4 لہسن کی کالیاں (کٹی ہوئی)، 1 کپ دودھ، 1 کپ پانی۔
تیاری: دودھ اور پانی کے مکسچر میں کٹی ہوئی لہسن کی کالیوں کو ڈال کر پکائیں۔ جب دودھ گاڑھا ہو جائے اور پانی سوکھ جائے، تو اسے چھان لیں۔
استعمال کا طریقہ: اس دودھ کو ہلکا نیم گرم کر کے رات میں سونے سے پہلے استعمال کریں۔ اس کا ذائقہ کڑوا ہو سکتا ہے، اس لیے تھوڑا شہد ملاया جا سکتا ہے۔
کیوں کام کرتا ہے: لہسن پھیپھڑوں سے جمے ہوئے کف کو ڈھیلے کرنے اور سانس کے راستوں کو صاف کرنے میں روایتی طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔
مولیٹی اور شہد کا لیپ
اجزاء: آدھا چمچ مولیٹی پاؤڈر، 1 چمچ شہد۔
تیاری: مولیٹی کے پاؤڈر میں شہد ملا کر ایک گاڑھا پیسٹ یا لیپ تیار کر لیں۔ اسے شیشے کے ڈبے میں اسٹور کر سکتے ہیں۔
استعمال کا طریقہ: اس مکسچر کو دن میں 2-3 بار چاٹ کر استعمال کریں۔ کھانسی کے دورے کے دوران یہ گلے کو آرام فراہم کر سکتا ہے۔
کیوں کام کرتا ہے: مولیٹی (لیکوریس) گلے اور پھیپھڑوں کے لیے انتہائی مفید مانی جاتی ہے اور یہ بلغم کو کم کر کے سانس لینے میں بہتری لا سکتی ہے۔
سونف اور مشری کا پانی
اجزاء: 1 چمچ سونف، آدھا چمچ مشری، 1 کپ پانی۔
تیاری: رات بھر سونف اور مشری کو پانی میں بھگو دیں۔ صبح اس پانی کو چھان لیں اور ہلکا نیم گرم کر لیں۔
استعمال کا طریقہ: اس پانی کو صبح خالی پیٹ پئیں۔ اسے باقاعدگی سے پینے سے ہاضمہ اور سانس دونوں پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
کیوں کام کرتا ہے: سونف کف کو متوازن کرتی ہے اور مشری جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے، جو واٹ-کف جنٹ اسمہ میں آرام دینے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
خوراک کی تجاویز
اسمہ کے مریضوں کے لیے متوازن خوراک انتہائی ضروری ہے۔ خوراک میں ہلکا اور ہضم کرنے میں آسان کھانا شامل کریں جیسے کہ پرانا چاول، مینگ دال، ہری سبزیاں، ادرک، لہسن اور کالی مرچ۔ نیم گرم پانی پینا فائدہ مند رہتا ہے۔ اس کے برعکس، دہی، ٹھنڈا دودھ، کیلا، آلو، تلی ہوئی چیزیں، بسن اور انتہائی نمکین یا کھٹے مادوں کا استعمال سے پرہیز کریں کیونکہ یہ کف اور بلغم کو بڑھاتے ہیں۔ رات کا کھانا ہلکا اور سونے سے کم از کم 2-3 گھنٹے پہلے کر لینا چاہیے تاکہ ہاضمہ ٹھیک رہے اور سانس لینے میں دشواری نہ ہو۔
زندگی کا انداز اور یوگا
زندگی کے انداز میں تبدیلی اسمہ کے انتظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ باقاعدہ ورزش اور یوگا آسان پھیپھڑوں کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ انلوام-ویلوم اور بھاسترکا پرانایام سانس کے نظام کو مضبوط کرنے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بھوجنگاسن (کوبرا پوز)، دھنوراسن (بو پوز) اور ماتسایاسن (فش پوز) جیسے آسان سینے کو کھولنے اور سانس لینے کو آسان بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ دھول دھویں سے دور رہیں، باقاعدہ نیند لیں اور ذہنی سکون کے لیے مراقبہ کا مشق کریں۔ سردیوں میں گرم کپڑے پہنیں اور منہ کو ڈھک کر رکھیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر گھریلو اوپائوں سے آرام نہ ملے، سانس لینے میں انتہائی دشواری ہو، ہونٹ یا ناخن نیلے پڑنے لگیں، یا بات چیت کرنے میں بھی سانس پھولنے لگے، تو فوراً طبی مدد لیں۔ بار بار آنے والے اسمہ کے دورے یا سینے میں تیز درد ہونے پر بھی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ آیورویدک علاج کے ساتھ ساتھ جدید طب کا سہارا لینا بھی اہم ہو سکتا ہے۔
ترک کی وضاحت
یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے طبی مشورہ، تشخیص یا علاج کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔ اسمہ ایک سنگین حالت ہو سکتی ہے۔ کسی بھی گھریلو اوپائے یا آیورویدک جڑی بوٹی کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا اہل آیورویدک ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔ یہ اوپائے بیماری کو ٹھیک کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے، بلکہ علامات میں آرام دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
اسمہ کا آیورویدک علاج کیا ہے؟
آیوروید کے مطابق اسمہ کا علاج 'واٹ' اور 'کف' دو دوشوں کو متوازن کرنے پر مبنی ہے۔ ادرک، شہد، ہلدی، تلسی اور لہسن جیسی جڑی بوٹیوں کا استعمال سانس کے راستوں کو کھولنے میں مددگار ہے۔
اسمہ میں کون سی خوراک نہیں کرنی چاہیے؟
اسمہ کے مریضوں کو دہی، ٹھنڈا دودھ، کیلا، آلو، تلی ہوئی چیزیں اور زیادہ نمکین یا کھٹے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ کف کو بڑھاتے ہیں۔
کون سا یوگا اسمہ کے لیے مفید ہے؟
انلوام-ویلوم، بھاسترکا پرانایام، بھوجنگاسن، دھنوراسن اور ماتسایاسن جیسے آسان سانس کی صلاحیت کو بڑھانے اور سینے کو کھولنے میں مددگار ہیں۔
متعلقہ مضامین
گردے کے پتھری (Kidney Stone) کا روایتی علاج: پشوان بھید اور قدرتی طریقے
گردے کے پتھری (آشمری) کا بنیادی سبب ہاضمے کی کمزوری اور واٹ دوष کا بگڑنا ہے۔ قدیم حکمت میں 'پشوان بھید' جڑی بوٹی کو پتھر توڑنے اور گردوں کی صفائی کے لیے سب سے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
نیند کی کمی اور پرسکون نیند کے لیے قدرتی آیورVEDک تدابیر
نیند کی کمی اور بے خوابی کے لیے آیورVEDک کے قدرتی علاج، غذائی تجاویز اور طرز زندگی میں تبدیلیاں جو پرسکون نیند اور بہتر صحت فراہم کرتی ہیں۔
7 منٹ پڑھنے
جوڑوں کے درد کے لیے آیورویدک علاج: قدرتی طریقے اور زندگی کا بہتر انداز
آیوروید کے مطابق جوڑوں کا درد 'واٹ' کے بے قابو ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گرم تیل کی مالش اور ہلدی کا استعمال قدرتی طور پر درد اور سوزش کو کم کرتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
آرام دہ سانس: ہلدی اور دیگر قدرتی طریقے سے دمہ کا علاج
آیورویڈ میں دمہ کو 'تَمَک شَہَس' کہا جاتا ہے جو واٹ اور کف کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ ہلدی والا گرم دودھ اور ادرک شہد کا ملاپ سانس کی نالیوں کو صاف کرنے کا سب سے سادہ اور قدرتی طریقہ ہے۔
4 منٹ پڑھنے
ہائی کولیسٹرول کا قدرتی علاج: قدیم آیورویدک گھریلو ٹوٹکے اور غذائی تدابیر
ہائی کولیسٹرول کو قدرتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے ہلدی، میٹھی اور لہسن جیسی عام کچن کی چیزیں بہترین ہیں۔ قدیم آیورویدک اصولوں کے مطابق ہاضمے کی آگ کو بھڑکانا کولیسٹرول کم کرنے کی کلید ہے۔
5 منٹ پڑھنے
سائنس کی مسئلہ کا آయువیدک علاج: کھانے اور گھریلو نسخے
آayuved میں سائنس کی مسئلہ کو کپ دوष کے بڑھنے اور ہاضمے کے خراب ہونے کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلدی، ادرک اور نمک والے پانی کا استعمال ناک کے راستوں کو کھولنے اور بلغم کو خارج کرنے میں فوری مدد دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں