ٹنکون بھسما
آیورویدک جڑی بوٹی
ٹنکون بھسما: کھانسی، زکام اور بلغم کے لیے روایتی آیورویدک حل
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
ٹنکون بھسما کیا ہے اور یہ کھانسی میں کیوں مفید ہے؟
ٹنکون بھسما دراصل ایک خاص طریقے سے صاف کیا گیا بوریس (Borax) کا راکھ ہے جو کھانسی، زکام اور گلے میں جمے ہوئے بلغم کو ختم کرنے کے لیے آیوروید میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ سفید، باریک پاؤڈر کی شکل میں ہوتا ہے جس کا ذائقہ تھوڑا کھارا اور تیز ہوتا ہے۔ کچا بوریس زہریلا ہوتا ہے، لیکن ٹنکون بھسما کو خاص پروسسنگ کے بعد محفوظ بنا دیا جاتا ہے تاکہ اسے شہد یا گھی کے ساتھ ملا کر اندر لیا جا سکے۔
یہ دوا گلے کی خارش اور سینے کی بھاری پن کو فوری کم کرتی ہے۔ قدیم آیورویدک کتابوں چارک سمہیتا اور بھاو پرکاش میں اسے 'اُشنا' (گرم) طاقت والا بتایا گیا ہے، جو سردی اور نمی والی بیماریوں کے لیے بہترین ہے۔
ٹنکون بھسما ایک ایسا قدرتی اینٹی بیکٹیریل ہے جو بغیر کسی کیمیائی اثر کے گلے کے انفیکشن اور بلغم کو پتلا کر دیتا ہے۔
عام طور پر گھروں میں بچوں کو ہلکا پھلکا کھانسی ہونے پر اس کی چٹکی بھر مقدار شہد میں ملا کر دی جاتی ہے، لیکن یہ صرف تب تک چلنا چاہیے جب تک کہ بلغم ختم نہ ہو جائے۔
ٹنکون بھسما جسم کے دوषوں (Doshas) پر کیا اثر ڈالتا ہے؟
ٹنکون بھسما کا بنیادی کام 'کاف' (بلغم) کو ختم کرنا ہے۔ یہ جسم میں جمع ہونے والی اضافی نمی کو سوکھتا ہے اور گہرے بلغم کو توڑ دیتا ہے۔ تاہم، چونکہ یہ بہت گرم اور تیز اثر رکھتا ہے، اس لیے زیادہ استعمال کرنے سے 'پِیت' (گرمی) اور 'وائت' (ہوا/سوزش) بڑھ سکتا ہے۔
جن لوگوں کا مزاج پہلے سے گرم ہے، جنہیں تیز بخار ہو، یا جن کی جلد بہت خشک ہو، انہیں اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے یا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں لینا چاہیے۔ یہ دوا 'اگنی' (پاچان آگ) کو بڑھاتی ہے، جس سے ہاضمہ تیز ہوتا ہے اور جسم سے زہریلے مادے نکل جاتے ہیں۔
ٹنکون بھسما کی آیورویدک خصوصیات
| خصوصیت | آیورویدک نام | اردو وضاحت |
|---|---|---|
| ذائقہ (Rasa) | کٹو، لوان | تیز اور کھارا |
| طاقت (Guna) | لگھو، روکش | ہلکا اور خشک |
| طبعیت (Virya) | اُشن | گرم |
| نتیجہ (Vipaka) | کٹو | ہضم ہونے کے بعد تیز اثر |
| اثر | کاف پیت ہرن | کاف کو کم کرتا ہے، پیت کو بڑھا سکتا ہے |
ٹنکون بھسما استعمال کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
ٹنکون بھسما کو استعمال کرتے وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی مقدار بہت کم ہونی چاہیے۔ عام طور پر 125 ملی گرام (آدھا چائے کا چمچ) سے 250 ملی گرام (ایک چائے کا چمچ) تک کی مقدار شہد یا گرم پانی کے ساتھ دی جاتی ہے۔
اگر گلے میں زخموں کی شکایت ہو تو اسے شہد کے ساتھ لپیٹ کر گلے میں لگانا بہتر ہے۔ اگر سینے میں بھاری پن ہو تو گرم دودھ یا گھی کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں، یہ دوا ہمیشہ خالی پیٹ یا کھانے سے پہلے لینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے، لیکن صرف تب جب معدہ کمزور نہ ہو۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
کیا ٹنکون بھسما روزانہ استعمال کے لیے محفوظ ہے؟
نہیں، ٹنکون بھسما صرف عارضی خوراک کے لیے ہے، عام طور پر 5 سے 7 دن تک۔ اسے روزانہ لمبے عرصے تک استعمال نہ کریں کیونکہ یہ جسم کی ضروری نمی کو ختم کر کے پیت (گرمی) کو بڑھا سکتا ہے۔
کیا کچا بوریس اور ٹنکون بھسما میں کیا فرق ہے؟
کچا بوریس زہریلا ہوتا ہے اور اسے کبھی بھی اندر نہیں لینا چاہیے، جبکہ ٹنکون بھسما کو خاص آیورویدک طریقے سے صاف اور جلایا گیا ہوتا ہے جو محفوظ اور دوائی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
کیا بچوں کو ٹنکون بھسما دیا جا سکتا ہے؟
بچوں کو بہت احتیاط سے اور صرف ڈاکٹر کے مشورے سے دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کا نظام ہاضمہ حساس ہوتا ہے۔ عام طور پر بچوں کے لیے مقدار بالغوں کے مقابلے میں آدھی یا اس سے بھی کم ہونی چاہیے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا ٹنکون بھسما روزانہ استعمال کے لیے محفوظ ہے؟
نہیں، ٹنکون بھسما صرف عارضی خوراک کے لیے ہے، عام طور پر 5 سے 7 دن تک۔ اسے روزانہ لمبے عرصے تک استعمال نہ کریں کیونکہ یہ جسم کی ضروری نمی کو ختم کر کے پیت (گرمی) کو بڑھا سکتا ہے۔
کیا کچا بوریس اور ٹنکون بھسما میں کیا فرق ہے؟
کچا بوریس زہریلا ہوتا ہے اور اسے کبھی بھی اندر نہیں لینا چاہیے، جبکہ ٹنکون بھسما کو خاص آیورویدک طریقے سے صاف اور جلایا گیا ہوتا ہے جو محفوظ اور دوائی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
کیا بچوں کو ٹنکون بھسما دیا جا سکتا ہے؟
بچوں کو بہت احتیاط سے اور صرف ڈاکٹر کے مشورے سے دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کا نظام ہاضمہ حساس ہوتا ہے۔ عام طور پر بچوں کے لیے مقدار بالغوں کے مقابلے میں آدھی یا اس سے بھی کم ہونی چاہیے۔
ٹنکون بھسما کھانے کے بعد لینا چاہیے یا پہلے؟
ٹنکون بھسما کو خالی پیٹ یا کھانے سے پہلے لینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے، خاص طور پر اگر معدہ کمزور نہ ہو۔ یہ ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور بلغم کو جلدی توڑتا ہے۔
متعلقہ مضامین
Bhumyamalaki (Bhui Amal): جگر اور گردے کے پتھری کے لیے قدرتی حل
Bhumyamalaki (Bhui Amal) جگر کی صحت اور گردے کے پتھری کے لیے ایک قدرتی حل ہے۔ یہ جڑی بوٹی جسم کی اضافی گرمی کو ٹھنڈا کرتی ہے اور جگر سے زہریلے مادے نکالنے میں مدد دیتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
سپتپرن کے فوائد: جلد کے امراض اور بخار کے لیے قدیم علاج، استعمال اور خوراک
سپتپرن (چیتا) جلد کے امراض، کیڑوں اور بخار کے علاج کے لیے ایک قدیم جڑی بوٹی ہے۔ اس کی کڑوی چھال خون کو صاف کرتی ہے اور زخموں کو جلدی بھرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جائے۔
4 منٹ پڑھنے
کِشارسوتر کے فوائد: بواسیر اور بگندر کا بغیر سرجری کے آیورودک علاج
کِشارسوتر بواسیر اور بگندر کا ایک قدرتی اور بغیر کٹائی والا آیورودک علاج ہے جو جدید سرجری کا متبادل ہے۔
6 منٹ پڑھنے
سپتامریت لوہ: آئرن کی کمی، آنکھوں کی روشنی اور بالوں کے سفید ہونے کا روایتی حل
سپتامریت لوہ ایک روایتی آیورویدک دوا ہے جو آنکھوں کی بینائی بہتر بناتی ہے اور بالوں کے جلدی سفید ہونے کو روکتی ہے۔ یہ لوہے کی کمی کو پورا کرتے ہوئے جسم کی گرمی کو بھی کم کرتی ہے، جو کہ دیگر لوہے والی ادویات سے اسے ممتاز کرتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
اویپاتیکار چورن: تیزابیت، ہارٹ برن اور پت کی عدم توازن کے لیے قدرتی آرام
اویپاتیکار چورن ایک قدرتی آیورویدک حل ہے جو معدے کی جلن اور تیزابیت کو ٹھنڈا کرتے ہوئے ہضم کو بہتر بناتا ہے۔ یہ چارک سمہیتا کے مطابق پت کو متوازن کرتا ہے اور معدے کی اندرونی تہہ کی مرمت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
برنگی: دمہ، پرانی کھانسی اور سانس کی نالیوں کی صفائی کے لیے بہترین جڑی بوٹی
برنگی ایک طاقتور آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو پرانی کھانسی اور دمہ میں جمی بلغم کو توڑنے کے لیے بہترین ہے۔ یہ چرک سمہتا میں سانس کے امراض کے لیے اہم جڑی کے طور پر درج ہے، لیکن اسے احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔
4 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں