شٹی کے فائدے
آیورویدک جڑی بوٹی
شٹی کے فائدے: سانس کی بہتری اور کھانسی سے نجات
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
شٹی کیا ہے اور یہ سانس کے لیے کیوں مفید ہے؟
شٹی (Shati) ایک قدیم اور طاقتور آتشین جڑی بوٹی ہے جو خاص طور پر سانس کی نالیوں میں جمے ہوئے بلغم کو پگھلانے اور بار بار ہونے والی کھانسی یا زکام سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ دراصل ہیڈیکیم اسپیکیٹم (Hedychium spicatum) کی جڑی ہوتی ہے جس کی خوشبو کپور اور یوکلپٹس کے ملاپ جیسی ہوتی ہے، جسے سونگھنے سے سانس کی نالیوں کو فوری آرام ملتا ہے۔
قدیم طب کے ماہرین، خاص طور پر چرک سمنہ میں، شٹی کو صرف دوا نہیں بلکہ ایک ایسا جزو مانا گیا ہے جو معدے کی آگ کو بھڑکاتے ہوئے پھیپھڑوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ عام جڑی بوٹیوں کے برعکس، شٹی کی تیز حرارت اور گہرائی میں اترنے کی صلاحیت اسے ان سخت بلغم کو توڑنے کے لیے بہترین بناتی ہے جو سرد ادویات سے ٹھیک نہیں ہوتے۔
شٹی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بلغم کو خشک کرتے ہوئے سانس کی نالیوں کو صاف کرتی ہے، بغیر معدے کو بوجھل کیے۔
شٹی کے طبی اور آتشین گنا کیا ہیں؟
شٹی کے گنا اس کی کڑواہٹ اور تیزی (کٹو اور تیکت) کے مجموعے پر مبنی ہیں، جبکہ اس کی طاقت (ویریا) گرم ہے۔ یہ خصوصیات اسے جسم میں گہرائی تک پہنچنے، زہریلے مادوں کو تحلیل کرنے اور جسم میں بھاری پن پیدا کیے بغیر توازن بحال کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
یہ جڑی بوٹی ہضم کو تیز کرتی ہے اور سانس کی نالیوں میں موجود رکاوٹوں کو ہٹاتی ہے۔ چرک سمنہ کے مطابق، شٹی کا استعمال کرتے وقت اس کی گرمی کو مد نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ پیتا (پیتا) کو بڑھانے کے بجائے کاف کو کم کرے۔
| آیورویدک گنا (سکرت) | قدر | جسم پر اثر |
|---|---|---|
| رس (ذائقہ) | کٹو (تیز)، تیکت (کڑوا) | میٹابولزم کو تیز کرتا ہے، نالیوں کو صاف کرتا ہے اور اضافی بلغم کو ختم کرتا ہے۔ |
| گن (صفت) | لگھو (ہلکا) | جسم میں تیزی سے جذب ہوتا ہے اور بھاری پن پیدا نہیں کرتا۔ |
| ویریا (طاقت) | اوشن (گرم) | سردیوں اور کاف کی بیماریوں میں فوری آرام دیتا ہے۔ |
| ویپاک (ہاضمہ کے بعد اثر) | کٹو (تیز) | پچانے کے بعد بھی تازگی اور ہلکاپن محسوس ہوتا ہے۔ |
شٹی کا استعمال کب اور کیسے کیا جائے؟
شٹی کا استعمال عام طور پر سردیوں، مون سون یا جب سانس کی نالیوں میں شدید بلغم جمع ہو جائے تو کیا جاتا ہے۔ اسے اکثر دودھ یا گھی کے ساتھ ملا کر پیا جاتا ہے تاکہ اس کی تیز حرارت کو متوازن کیا جا سکے۔
یاد رکھیں، شٹی ایک ٹونک نہیں ہے جسے روزانہ سال بھر استعمال کیا جائے۔ یہ ایک مخصوص مدت کے علاج کے لیے بہترین ہے۔ جب بلغم ختم ہو جائے تو اس کا استعمال بند کر دینا چاہیے تاکہ جسم میں گرمی کی زیادتی نہ ہو۔
چرک سمنہ کے مطابق، شٹی وہ واحد جڑی بوٹی ہے جو پھیپھڑوں کی سردی کو ختم کرتے ہوئے معدے کی آگ کو کم نہیں کرتی۔
شٹی کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا شٹی کا روزانہ استعمال محفوظ ہے؟
شٹی کا روزانہ طویل عرصے تک استعمال محفوظ نہیں ہے۔ یہ صرف سردیوں یا سانس کے انفیکشن کے دوران عارضی طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ اس کی گرم فطرت کی وجہ سے اسے چکر بن کر یا صرف ضرورت پڑنے پر لینا چاہیے۔
پیتا (پیٹ) کی تکلیف والے لوگ شٹی استعمال کر سکتے ہیں؟
جن لوگوں کو تیزابیت (ایسڈ ریفلکس) یا زیادہ پیتا کی شکایت ہو، انہیں شٹی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر استعمال ضروری ہو تو اسے گھی یا ٹھنڈے دودھ کے ساتھ لیں تاکہ اس کی تیزی کم ہو سکے۔
شٹی بچوں کے لیے کیسی ہے؟
بچوں کے لیے شٹی کا استعمال صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی کرنا چاہیے۔ بچوں کی ہاضمہ کی طاقت کم ہوتی ہے، اس لیے اس کی خوراک بہت احتیاط سے طے کی جاتی ہے تاکہ ان کے معدے پر بوجھ نہ پڑے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
شٹی کا روزانہ استعمال کیا محفوظ ہے؟
شٹی کا روزانہ طویل عرصے تک استعمال محفوظ نہیں ہے۔ یہ صرف سردیوں یا سانس کے انفیکشن کے دوران عارضی طور پر استعمال کی جاتی ہے۔
کیا تیزابیت والے لوگ شٹی استعمال کر سکتے ہیں؟
جن لوگوں کو تیزابیت یا زیادہ پیتا کی شکایت ہو، انہیں شٹی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر استعمال ضروری ہو تو اسے گھی یا ٹھنڈے دودھ کے ساتھ لیں۔
شٹی کس بیماری کے لیے بہترین ہے؟
شٹی خاص طور پر سانس کی نالیوں میں جمے ہوئے بلغم، کھانسی، زکام اور بار بار ہونے والے انفیکشن کے علاج کے لیے بہترین ہے۔
متعلقہ مضامین
تگر: تناؤ اور نیند کے لیے قدیم ہندوستانی جڑی بوٹی
تگر ایک قدیم آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو وٹ اور پیتھ کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند دیتی ہے۔ چرک سمہیتا کے مطابق، یہ جدید نیند کی گولیوں کے برعکس اگلی صبح ذہنی تازگی فراہم کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
تواک (دارچینی): سردی، سوزش اور میٹابولزم بڑھانے کا قدرتی حل
تواک یا دارچینی آئوروید میں ہاضمے کی آگ بڑھانے اور کاف کو کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس کے باقاعدہ استعمال سے 8 ہفتوں میں کولیسٹرول میں 15٪ تک کمی آ سکتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
کٹج: اسہال اور پیٹ کے امراض کے لیے قدرتی حل
کٹج ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو روایتی طب میں اسہال اور پیٹ کی سوزش کے لیے سب سے زیادہ مستند علاج مانا جاتا ہے۔ چارک سंहیتا کے مطابق، اس کی گراہی طاقت آنتوں کو سکڑ کر فوری ریلیف دیتی ہے۔
2 منٹ پڑھنے
تیل پتہ (Tejpatta): کھانسی، سانس اور ہاضمے کے لیے روایتی علاج
تیل پتہ صرف کھانے کی مسالہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ادویہ ہے جو ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور کھانسی میں جمنے والا بلغم (Kapha) پگھلاتا ہے۔ چارک سمہتا کے مطابق، یہ جسم میں زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہا منجیشتھادی: خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے قدیم نسخہ
مہا منجیشتھادی خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے ایک قدیم نسخہ ہے جو چرک سمہیتا میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ پیتھ کو کم کرتا ہے، جلد کے داغ دھبوں کو مٹاتا ہے اور خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
کرنجا (Pongamia): کپھا ڈوشا، جلد کے امراض اور موٹاپے کے لیے قدیم اردو نسخے
کرنجا (Pongamia) خون کو صاف کرنے اور کپھا ڈوشا کو متوازن کرنے والی قدیم جڑی بوٹی ہے۔ یہ جلد کے امراض اور موٹاپے کے علاج میں خاص طور پر مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن پیٹہ والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں