شملہ (مورچہ)
آیورویدک جڑی بوٹی
شملہ (مورچہ): خون روکنے، زخم بھرنے اور پیت کو قدرتی طور پر پرسکون کرنے کے فوائد
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
شملہ کیا ہے اور اسے ریشمی کپاس کا درخت کیوں کہا جاتا ہے؟
شملہ (Salmalia malabarica) ایک ٹھنڈا اور کھٹا (کشاد) جڑی بوٹی ہے جسے روایتی طب میں خون روکنے، زخم بھرنے اور پیٹ کے مسائل کے لیے اس کے گوند، جسے "مورچہ" (Mochras) کہتے ہیں، کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہ عظیم الشان درخت جس کی ٹہنیوں پر کانٹے اور روشن سرخ پھول ہوتے ہیں، صرف سایہ دینے تک محدود نہیں ہے؛ اس کا رال دار گوند جسم کے لیے ایک طاقتور اندرونی باندھنے والا agent ہے۔
جب آپ شملہ کے درخت سے خشک گوند توڑتے ہیں تو آپ کو ایک ہلکی مٹی جیسی خوشبو اور زبان پر ایک خاص خشک، کھٹا محسوس ہوتا ہے۔ یہ احساس کشاد (Astringency) کے اثر کی وجہ سے ہے، جو قدیم حکیموں کے مطابق ٹشوز کو آپس میں جوڑنے کے لیے ضروری ہے۔ مصنوعی باندھنے والوں کے برعکس، شملہ ٹچ شدہ ٹشوز کو فیزیکی طور پر سکڑ کر کام کرتا ہے، اسی لیے دیہی علاقوں کی خواتین کٹنے پر تازہ گوند کی پیسٹ یا دیرپا ڈائریا کے لیے پاؤڈر کو دہی میں ملا کر استعمال کرتی ہیں۔ چرک سمہتا، خاص طور پر سوترا سٹھان میں، شملہ کو خون کے امراض اور ٹشوز کی چوٹوں کے انتظام کے لیے اہم جڑی بوٹیوں میں شمار کیا گیا ہے، جو صرف علامات سے راحت دینے والی نہیں بلکہ متاثرہ گوشت کو بحال کرنے والا بھی ہے۔
شملہ کا گوند (مورچہ) قدرتی طور پر خون کے بہاؤ کو روکتا ہے اور زخموں کو جلدی بھرنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ یہ ٹشوز کو سکڑ کر انہیں مضبوط بناتا ہے۔
شملہ کے آیورویدک خواص کیا ہیں؟
شملہ کا آیورویدک پروفائل اسے ایک ٹھنڈا، بھاری اور کھٹا (کشاد) مادہ قرار دیتا ہے جو پیت دوष کو پرسکون کرتا ہے، جبکہ وٹا یا کف کی زیادتی میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ درمیانے درجے کا ہضم کرنے والا ہے اور اس کا اثر آہستہ آہستہ پھیلتا ہے۔
| آیورویدک خاصیت | اردو نام | وضاحت |
|---|---|---|
| Rasa (مزاج) | کھٹا (Kashaya) | زبان پر کھٹا اور خشک محسوس ہوتا ہے، جو ٹشوز کو سیکڑتا ہے۔ |
| Guna (طبیعت) | بھاری اور خشک (Guru & Ruksha) | یہ جسم میں جلدی ہضم نہیں ہوتا اور نمی کو جذب کرتا ہے۔ |
| Virya (طاقت) | ٹھنڈا (Shita) | جسم کی گرمی اور جلن کو کم کرتا ہے۔ |
| Vipaka (ہاضمہ کے بعد اثر) | کھٹا (Katu) | ہضم ہونے کے بعد یہ کھٹا اثر دیتا ہے۔ |
| دوष پر اثر | پیت کو کم کرتا ہے | خون کی گرمی اور سوزش کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ |
چرک سمہتا کے مطابق، شملہ (مورچہ) وہ واحد جڑی بوٹی ہے جو نہ صرف خون روکتی ہے بلکہ متاثرہ ٹشوز کو دوبارہ بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
شملہ کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟
شملہ کو عام طور پر اس کے گوند (مورچہ) کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے پاؤڈر کی شکل میں دہی، چاول کا پانی یا گرم پانی کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو زخم لگا ہے تو تازہ گوند کو پانی میں ملا کر پیسٹ بنا کر زخم پر لگائیں۔ یہ گہرے زخموں کو بھرنے اور انفیکشن سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
خون بہنے یا ڈائریا میں شملہ کا استعمال
خون بہنے یا شدید ڈائریا کی صورت میں 3 سے 5 گرام شملہ پاؤڈر کو گرم پانی یا دہی کے ساتھ لیں۔ دہی میں موجود چربی اس کے بھاری اثر کو بہتر طریقے سے جذب کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ نسخہ گھریلو علاج کے طور پر صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
ڈائریا میں شملہ پاؤڈر کیسے استعمال کریں؟
ڈائریا کے لیے 3 سے 5 گرام شملہ پاؤڈر کو گرم پانی، چاول کے پانی یا دہی کے ساتھ ملا کر دن میں دو بار لیں۔ دہی کی چربی اس کے اثر کو بہتر بناتی ہے۔
شملہ کا گوند زخموں پر کیسے لگایا جائے؟
تازہ شملہ کے گوند کو تھوڑے پانی میں ملا کر پیسٹ بنا لیں اور صاف زخم پر لگائیں۔ یہ خون روکنے اور جلدی بھرنے میں مدد دیتا ہے۔
شملہ کا استعمال کون نہیں کر سکتا؟
جو لوگوں کو قبض (کنف) کی شکایت ہو یا جن کا معدہ بہت کمزور ہو، انہیں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر شملہ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھاری ہوتا ہے۔
شملہ پاؤڈر کا روزانہ کتنا استعمال محفوظ ہے؟
عام طور پر 3 سے 6 گرام پاؤڈر کا روزانہ استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ بیماری کی نوعیت پر منحصر ہے۔
متعلقہ مضامین
تگر: تناؤ اور نیند کے لیے قدیم ہندوستانی جڑی بوٹی
تگر ایک قدیم آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو وٹ اور پیتھ کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند دیتی ہے۔ چرک سمہیتا کے مطابق، یہ جدید نیند کی گولیوں کے برعکس اگلی صبح ذہنی تازگی فراہم کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
تواک (دارچینی): سردی، سوزش اور میٹابولزم بڑھانے کا قدرتی حل
تواک یا دارچینی آئوروید میں ہاضمے کی آگ بڑھانے اور کاف کو کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس کے باقاعدہ استعمال سے 8 ہفتوں میں کولیسٹرول میں 15٪ تک کمی آ سکتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
کٹج: اسہال اور پیٹ کے امراض کے لیے قدرتی حل
کٹج ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو روایتی طب میں اسہال اور پیٹ کی سوزش کے لیے سب سے زیادہ مستند علاج مانا جاتا ہے۔ چارک سंहیتا کے مطابق، اس کی گراہی طاقت آنتوں کو سکڑ کر فوری ریلیف دیتی ہے۔
2 منٹ پڑھنے
تیل پتہ (Tejpatta): کھانسی، سانس اور ہاضمے کے لیے روایتی علاج
تیل پتہ صرف کھانے کی مسالہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ادویہ ہے جو ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور کھانسی میں جمنے والا بلغم (Kapha) پگھلاتا ہے۔ چارک سمہتا کے مطابق، یہ جسم میں زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہا منجیشتھادی: خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے قدیم نسخہ
مہا منجیشتھادی خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے ایک قدیم نسخہ ہے جو چرک سمہیتا میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ پیتھ کو کم کرتا ہے، جلد کے داغ دھبوں کو مٹاتا ہے اور خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
کرنجا (Pongamia): کپھا ڈوشا، جلد کے امراض اور موٹاپے کے لیے قدیم اردو نسخے
کرنجا (Pongamia) خون کو صاف کرنے اور کپھا ڈوشا کو متوازن کرنے والی قدیم جڑی بوٹی ہے۔ یہ جلد کے امراض اور موٹاپے کے علاج میں خاص طور پر مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن پیٹہ والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں