
روشیہ کے فوائد: جوڑوں کے درد اور سوزش کے لیے دیسی علاج
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
روشیہ (Rohisha) کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟
روشیہ (Cymbopogon martinii)، جسے عام طور پر پالماروزا یا دیسی گھاس بھی کہا جاتا ہے، جوڑوں کے درد اور جسمانی جماؤ کو دور کرنے کے لیے دیسی طب میں ایک اہم جڑی بوٹی ہے۔ یہ عام لیموں گھاس سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں گلاب جیسی خوشبو ہوتی ہے جو اس کی خاصیت کو ظاہر کرتی ہے۔ قدیم کتاب 'چرک سنہتا' کے مطابق، یہ جڑی بوٹی تیز اور کڑوی ذائقے کی حامل ہوتی ہے جو جسم میں جمی ہوئی سردی اور بلغم کو ختم کرتی ہے۔
روشیہ کی یہ صلاحیت کہ یہ گہری نسوں تک رسائی حاصل کرے، اسے واتی اور کفالی بیماریوں کے لیے بہترین بناتی ہے۔ تاہم، چونکہ اس کی تاثیر گرم ہے، اس لیے جن لوگوں کو صفراوی تکلیف ہو انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔
روشیہ کے آیورویدک فوائد اور خصوصیات کیا ہیں؟
روشیہ کی ہلکی اور تیز خصوصیات اسے جلد جذب ہونے اور پٹھوں یا ہڈیوں تک پہنچنے کی طاقت دیتی ہیں۔ اس کی گرم تاثیر (Ushna Virya) ہاضمے کی آگ کو تیز کرتی ہے اور خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے، جو ٹھنڈے اور سوجے ہوئے جوڑوں کے لیے فوری راحت کا باعث بنتی ہے۔
| خاصیت (Property) | تفصیل (Details) |
|---|---|
| رس (Taste) | کٹوا (تیز) اور کڑوا |
| گن (Quality) | ہلکا اور تیز |
| ویریا (Potency) | گرم (Ushna) |
| vipaka (Post-digestive) | کٹوا (Pungent) |
| دوش اثر (Dosha) | وات اور کف کو کم کرتی ہے، پت کو بڑھا سکتی ہے |
روشیہ کا استعمال اور خوراک کیسی ہونی چاہیے؟
روشیہ کا استعمال عام طور پر پاؤڈر، کاڑھا یا تیل کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ جوڑوں کے درد کے لیے اس کے تیل کی ہلکی مالش بہت مفید ہے، جبکہ اندرونی استعمال کے لیے آدھا چائے کا چمچ پاؤڈر نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ شروع میں چھوٹی مقدار سے آغاز کریں اور اپنے معالج کے مشورے کے مطابق خوراک بڑھائیں تاکہ جسم کو اس کی عادت ہو سکے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
روشیہ کا اصلی استعمال کیا ہے؟
روشیہ کا بنیادی استعمال جوڑوں کے درد، بخار اور کیڑوں کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ واتی اور کفالی دوषوں کو متوازن کرتی ہے۔
روشیہ کا پاؤڈر کیسے استعمال کریں؟
آپ آدھا چائے کا چمچ روشیہ کا پاؤڈر نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ دن میں ایک بار لے سکتے ہیں۔ بہتر نتائج کے لیے ماہر کے مشورے سے خوراک طے کریں۔
کیا روشیہ کا تیل جوڑوں کے درد میں مفید ہے؟
جی ہاں، روشیہ کا تیل جوڑوں پر لگانے سے سردی اور جماؤ دور ہوتا ہے اور درد میں کمی آتی ہے۔ اسے ہلکے ہاتھوں سے مساج کر کے لگائیں۔
متعلقہ مضامین
تگر: تناؤ اور نیند کے لیے قدیم ہندوستانی جڑی بوٹی
تگر ایک قدیم آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو وٹ اور پیتھ کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند دیتی ہے۔ چرک سمہیتا کے مطابق، یہ جدید نیند کی گولیوں کے برعکس اگلی صبح ذہنی تازگی فراہم کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
تواک (دارچینی): سردی، سوزش اور میٹابولزم بڑھانے کا قدرتی حل
تواک یا دارچینی آئوروید میں ہاضمے کی آگ بڑھانے اور کاف کو کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس کے باقاعدہ استعمال سے 8 ہفتوں میں کولیسٹرول میں 15٪ تک کمی آ سکتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
کٹج: اسہال اور پیٹ کے امراض کے لیے قدرتی حل
کٹج ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو روایتی طب میں اسہال اور پیٹ کی سوزش کے لیے سب سے زیادہ مستند علاج مانا جاتا ہے۔ چارک سंहیتا کے مطابق، اس کی گراہی طاقت آنتوں کو سکڑ کر فوری ریلیف دیتی ہے۔
2 منٹ پڑھنے
تیل پتہ (Tejpatta): کھانسی، سانس اور ہاضمے کے لیے روایتی علاج
تیل پتہ صرف کھانے کی مسالہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ادویہ ہے جو ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور کھانسی میں جمنے والا بلغم (Kapha) پگھلاتا ہے۔ چارک سمہتا کے مطابق، یہ جسم میں زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہا منجیشتھادی: خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے قدیم نسخہ
مہا منجیشتھادی خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے ایک قدیم نسخہ ہے جو چرک سمہیتا میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ پیتھ کو کم کرتا ہے، جلد کے داغ دھبوں کو مٹاتا ہے اور خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
کرنجا (Pongamia): کپھا ڈوشا، جلد کے امراض اور موٹاپے کے لیے قدیم اردو نسخے
کرنجا (Pongamia) خون کو صاف کرنے اور کپھا ڈوشا کو متوازن کرنے والی قدیم جڑی بوٹی ہے۔ یہ جلد کے امراض اور موٹاپے کے علاج میں خاص طور پر مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن پیٹہ والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں