
نیتیانند رس: فیلیریا اور غدود کی سوجن کا دیسی علاج اور استعمال
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
نیتیانند رس کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
نیتیانند رس (Nityananda rasa) ایک قدیم آیورvedic دوا ہے جو خاص طور پر فیلیریا (ہاتھی پاؤں) اور جسم میں غدودوں کی سخت سوجن کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ دوا جسم میں جمع ہو گئے زہریلے مادوں (آما) کو توڑ کر باہر نکالتی ہے اور رکاوٹوں کو دور کرتی ہے۔
آیورودک کتابوں جیسے 'رس رتناکر' اور 'بھو پرکاش' کے مطابق، نیتیانند رس کی تاثیر گرم ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ کٹا (تیز) اور تکتا (کڑوا) ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر کف اور واٹ دو کو کم کرتی ہے، لیکن اگر اسے غلط مقدار میں لیا جائے تو یہ پت دو کو بڑھا سکتی ہے۔ اس دوا کا بنیادی کام رگوں میں جمی ہوئی گانٹھوں کو پگھلانا اور خون کو صاف کرنا ہے۔
نیتیانند رس کا ذائقہ اس کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے: کٹا ذائقہ میٹابولزم تیز کرتا ہے اور بلغم کو خشک کرتا ہے، جبکہ کڑوا ذائقہ خون سے زہر نکالتا ہے۔ آیورود میں ذائقہ محض زبان کا تجربہ نہیں بلکہ یہ بتاتا ہے کہ دوا آپ کے ٹشوز اور اعضاء پر کیسے اثر کرے گی۔
نیتیانند رس کے اہم آیورvedic خصوصیات
آیورود میں ہر جڑی یا دوا کو پانچ بنیادی اصولوں پر پرکھا جاتا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ جسم میں کیا ردعمل پیدا کرے گی۔ نیتیانند رس کا استعمال کرنے سے پہلے ان خصوصیات کو سمجھنا ضروری ہے:
| خصوصیت (اردو/سنسکرت) | قدر و مان | آپ کے جسم پر اثر |
|---|---|---|
| رس (ذائقہ) | کٹا، تکتا (تیز، کڑوا) | میٹابولزم بڑھاتا ہے، رگیں صاف کرتا ہے، بلغم ختم کرتا ہے اور خون سے زہر نکالتا ہے۔ |
| گن (طبیعی خصوصیت) | تیکشنا (تیز/نفوذ پذیر) | یہ دوا جسم کی گہری رگوں میں جا کر جمی ہوئی گانٹھوں اور رکاوٹوں کو توڑتی ہے۔ |
| ویریا (طاقت) | وشنا (گرم) | جسم کو اندر سے گرمی پہنچاتی ہے جو ٹھنڈی اور سست کف کو گلنے اور ختم ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ |
| وپاک (ہضم کے بعد اثر) | کٹا (تیز) | ہضم ہونے کے بعد بھی یہ جسم میں صفائی کا عمل جاری رکھتی ہے اور فضلہ خارج کرتی ہے۔ |
| دوش اثر | کف، واٹ | یہ کف اور واٹ کو متوازن کرتی ہے، لیکن زیادہ استعمال پت (پتت) کو بڑھا سکتا ہے۔ |
نیتیانند رس کے اصلی فائدے کیا ہیں؟
نیتیانند رس کا سب سے اہم فائدہ فیلیریا (ہاتھی پاؤں) کے علاج میں ہے، جو کہ لمفی نظام کی رکاوٹ سے ہونے والی بیماری ہے۔ یہ دوا لمفی رگوں میں جمے ہوئے گاڑھے مادے کو پتلا کرتی ہے اور بہاؤ کو دوبارہ شروع کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ گردن، بغلوں یا رانوں کے اندرونی حصے میں ہونے والی سخت غدودوں (Glandular swellings) کو گلانے میں بھی مددگار ہے۔
یہ دوا صرف سوجن ہی نہیں کم کرتی بلکہ یہ خون کو بھی صاف کرتی ہے جس سے جلد کے پرانے داغ دھبے اور خارش میں بھی کمی آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں مچھروں کے کاٹنے سے یہ بیماری زیادہ ہوتی ہے، وہاں یہ دوا ایک قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔
نیتیانند رس کا درست استعمال اور خوراک
نیتیانند رس ایک طاقتور دوا ہے اس لیے اسے کبھی بھی خود سے شروع نہیں کرنا چاہیے۔ عام طور پر آیورvedic حکیم اسے شہد، گھی یا پھر ادرک کے رس کے ساتھ ملا کر دیتے ہیں تاکہ اس کی تیزی کو کنترل کیا جا سکے۔ خوراک مریض کی عمر، بیماری کی شدت اور ہضم کی طاقت کے مطابق 62.5 ملی گرام سے لے کر 250 ملی گرام تک ہو سکتی ہے۔
اس دوا کو لیتے وقت پرہیز بہت ضروری ہے؛ ٹھنڈی چیزیں، دہی، اور بھاری غذائیں اس کے اثر کو کم کر سکتی ہیں یا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اسے خالی پیٹ یا حکیم کے بتائے ہوئے وقت پر ہلکے گرم پانی کے ساتھ لیا جائے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
نیتیانند رس کا اردو میں کیا مطلب اور استعمال ہے؟
نیتیانند رس کا مطلب 'ہمیشہ خوشی دینے والا رس' ہے اور اس کا بنیادی استعمال فیلیریا (ہاتھی پاؤں) اور جسم کی اندرونی گانٹھوں کو ختم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ کف اور واٹ دو کو کم کر کے رگوں کی صفائی کرتی ہے۔
نیتیانند رس کو کیسے اور کتنی مقدار میں لینا چاہیے؟
اس دوا کو عام طور پر 62.5 سے 250 ملی گرام کی مقدار میں شہد یا ادرک کے رس کے ساتھ دن میں دو بار لیا جاتا ہے۔ خوراک مریض کی عمر اور بیماری کی شدت کے لحاظ سے کسی ماہر آیورvedic ڈاکٹر کے مشورے سے طے کرنی چاہیے۔
کیا نیتیانند رس کو گھر پر خود تیار کیا جا سکتا ہے؟
نہیں، نیتیانند رس میں پارے اور گندھک جیسے دھاتوں کا خاص طریقے سے علاج (شودھن) کیا جاتا ہے جو صرف تربیت یافتہ حکیم ہی کر سکتے ہیں۔ گھر پر غلط طریقے سے بنائی گئی دوا زہریلی ہو سکتی ہے اس لیے تیار شدہ دوا ہی استعمال کریں۔
متعلقہ مضامین
تگر: تناؤ اور نیند کے لیے قدیم ہندوستانی جڑی بوٹی
تگر ایک قدیم آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو وٹ اور پیتھ کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند دیتی ہے۔ چرک سمہیتا کے مطابق، یہ جدید نیند کی گولیوں کے برعکس اگلی صبح ذہنی تازگی فراہم کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
تواک (دارچینی): سردی، سوزش اور میٹابولزم بڑھانے کا قدرتی حل
تواک یا دارچینی آئوروید میں ہاضمے کی آگ بڑھانے اور کاف کو کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس کے باقاعدہ استعمال سے 8 ہفتوں میں کولیسٹرول میں 15٪ تک کمی آ سکتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
کٹج: اسہال اور پیٹ کے امراض کے لیے قدرتی حل
کٹج ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو روایتی طب میں اسہال اور پیٹ کی سوزش کے لیے سب سے زیادہ مستند علاج مانا جاتا ہے۔ چارک سंहیتا کے مطابق، اس کی گراہی طاقت آنتوں کو سکڑ کر فوری ریلیف دیتی ہے۔
2 منٹ پڑھنے
تیل پتہ (Tejpatta): کھانسی، سانس اور ہاضمے کے لیے روایتی علاج
تیل پتہ صرف کھانے کی مسالہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ادویہ ہے جو ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور کھانسی میں جمنے والا بلغم (Kapha) پگھلاتا ہے۔ چارک سمہتا کے مطابق، یہ جسم میں زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہا منجیشتھادی: خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے قدیم نسخہ
مہا منجیشتھادی خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے ایک قدیم نسخہ ہے جو چرک سمہیتا میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ پیتھ کو کم کرتا ہے، جلد کے داغ دھبوں کو مٹاتا ہے اور خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
کرنجا (Pongamia): کپھا ڈوشا، جلد کے امراض اور موٹاپے کے لیے قدیم اردو نسخے
کرنجا (Pongamia) خون کو صاف کرنے اور کپھا ڈوشا کو متوازن کرنے والی قدیم جڑی بوٹی ہے۔ یہ جلد کے امراض اور موٹاپے کے علاج میں خاص طور پر مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن پیٹہ والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں