مستو (چھاس) کے فائدے
آیورویدک جڑی بوٹی
مستو (چھاس) کے فائدے: ہاضمے کی بہتری، وزن میں کمی اور جوڑوں کے درد کا قدرتی حل
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
مستو (چھاس) کیا ہے اور یہ ہماری صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟
مستو، جسے عام بول چال میں چھاس یا لسی کہا جاتا ہے، وہ ہلکا اور ہضم ہونے والا مشروب ہے جو دہی سے مکھن نکالنے کے بعد بچتا ہے۔ یہ صرف ایک ٹھنڈا پینے کا چیز نہیں بلکہ ایک ایسی قدرتی دوا ہے جو جسم میں چکنائی کو کم کرتی ہے اور ہاضمے کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔
قدیم کتاب چرک سمہتا میں اس کا ذکر خاص طور پر 'یوکرت' (دہی سے بنا ہوا) اور 'ملیچھ' ( ابلا ہوا) شکلوں میں ملتا ہے۔ مستو کا ذائقہ کچھ کڑوا اور کھٹا ہوتا ہے اور اس کی طاقت گرم ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر واٹا اور کپھ دوش کو کم کرتی ہے، لیکن اگر اس میں مسالے نہ ہوں یا بہت زیادہ پیا جائے تو یہ پیتا دوش بڑھا سکتی ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ مستو کو دودھ کا مخالف مانا جاتا ہے۔ جہاں دودھ جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور کپھ بڑھاتا ہے، وہاں مستو ہاضمہ بہتر کرتی ہے اور کپھ کو کم کرتی ہے۔ ایک پرانا اصول ہے کہ "دودھ رات میں اور چھاس دن میں پیا جانا چاہیے"۔ یہ اصول ہمیں بتاتا ہے کہ ہر چیز کا ایک خاص وقت ہوتا ہے۔
مستو کے بنیادی طبی خواص (دروغگو) کیا ہیں؟
ہر خوراک کے پانچ بنیادی پہلو ہوتے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ وہ جسم پر کیسے اثر انداز ہوگی۔ مستو کے یہ خواص اسے ایک ایسا مشروب بناتے ہیں جو جلدی جذب ہو جاتا ہے۔ ذیل کا ٹیبل اس کے سائنسی اور طبی تجزیے کو ظاہر کرتا ہے:
| خاصیت (سنسکرت) | مقدار (ویلیو) | جسم پر اثر |
|---|---|---|
| رَسا (ذائقہ) | کڑوا اور کھٹا | ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور کپھ کو کم کرتا ہے |
| گونا (ویژن) | ہلکا اور تیز | جسم سے زہریلے مادے خارج کرتا ہے اور وزن کم کرتا ہے |
| ویریا (طاقت) | اُشن (گرم) | جوڑوں کے درد اور سوزش کو کم کرتا ہے |
| ویپاک (ہاضمے کے بعد اثر) | کھٹا | ہاضمے کی آگ کو مضبوط کرتا ہے |
| سروپ (مجموعی اثر) | دیپن اور لیکھن | خون کی صفائی کرتا ہے اور موٹاپے کو روکتا ہے |
یاد رکھیں کہ مستو کا استعمال ہمیشہ تازہ اور ہلکے مسالوں کے ساتھ کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے فائدے زیادہ سے زیادہ حاصل ہوں۔
مستو کا استعمال ہاضمے اور وزن میں کیسے مددگار ہے؟
اگر آپ کو ہاضمے کی خرابی، گیس یا بھاری پن کا مسئلہ ہے تو مستو سب سے بہترین حل ہے۔ یہ معدے میں موجود فالتو تیل اور چکنائی کو ختم کرتی ہے۔ وزن کم کرنے والوں کے لیے یہ ایک قدرتی سپورٹ ہے جو بھوک کو کنٹرول کرتے ہوئے میٹابولزم تیز کرتی ہے۔
جوڑوں کے درد میں بھی اس کا استعمال مفید ہے کیونکہ اس کی گرم طاقت (ویریا) جسم میں جمے ہوئے کپھ کو پگھلاتی ہے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو سرد موسم میں جوڑوں میں اکڑن محسوس کرتے ہیں۔
مستو بنانے اور پینے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
مستو بنانے کے لیے تھوڑا سا دہی پانی میں اچھی طرح پھینٹ لیں اور اس میں ہلکا سا نمک، زیرہ اور کالی مرچ شامل کریں۔ یہ مسالے اس کے اثر کو بڑھاتے ہیں۔ اسے کھانے کے فوراً بعد یا دوپہر کے کھانے کے بعد پینا بہترین ہے۔ رات کے وقت اس کا استعمال نہ کریں کیونکہ یہ نیند میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
مستو کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
مستو کا استعمال کون سا دوش کو کم کرتا ہے؟
مستو کا استعمال بنیادی طور پر واٹا اور کپھ دوش کو متوازن کرتا ہے۔ یہ ہاضمے کی آگ کو بڑھاتی ہے اور جسم سے فالتو نمی اور چکنائی کو ختم کرتی ہے۔
مستو وزن کم کرنے میں کیسے مدد کرتی ہے؟
مستو میں موجود 'لیکن' خاصیت جسم میں جمع شدہ چکنائی کو توڑتی ہے۔ یہ میٹابولزم کو تیز کرتی ہے جس سے وزن قدرتی طور پر کم ہوتا ہے۔
کیا میں رات کو مستو پی سکتا ہوں؟
نہیں، رات کو مستو کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ قدیم اصول کے مطابق دودھ رات میں اور مستو دن میں پینی چاہیے، ورنہ یہ نیند خراب کر سکتی ہے اور سینے میں جلن پیدا کر سکتی ہے۔
مستو کے ساتھ کون سے مسالے شامل کرنے چاہئیں؟
مستو کے ساتھ نمک، بھونے ہوئے زیرہ، کالی مرچ اور تھوڑا سا ادرک شامل کرنا چاہیے۔ یہ مسالے ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں اور پیتا دوش کو متوازن رکھتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
مستو کا استعمال کون سا دوش کو کم کرتا ہے؟
مستو کا استعمال بنیادی طور پر واٹا اور کپھ دوش کو متوازن کرتا ہے۔ یہ ہاضمے کی آگ کو بڑھاتی ہے اور جسم سے فالتو نمی اور چکنائی کو ختم کرتی ہے۔
مستو وزن کم کرنے میں کیسے مدد کرتی ہے؟
مستو میں موجود 'لیکن' خاصیت جسم میں جمع شدہ چکنائی کو توڑتی ہے۔ یہ میٹابولزم کو تیز کرتی ہے جس سے وزن قدرتی طور پر کم ہوتا ہے۔
کیا میں رات کو مستو پی سکتا ہوں؟
نہیں، رات کو مستو کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ قدیم اصول کے مطابق دودھ رات میں اور مستو دن میں پینی چاہیے، ورنہ یہ نیند خراب کر سکتی ہے اور سینے میں جلن پیدا کر سکتی ہے۔
مستو کے ساتھ کون سے مسالے شامل کرنے چاہئیں؟
مستو کے ساتھ نمک، بھونے ہوئے زیرہ، کالی مرچ اور تھوڑا سا ادرک شامل کرنا چاہیے۔ یہ مسالے ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں اور پیتا دوش کو متوازن رکھتے ہیں۔
متعلقہ مضامین
تگر: تناؤ اور نیند کے لیے قدیم ہندوستانی جڑی بوٹی
تگر ایک قدیم آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو وٹ اور پیتھ کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند دیتی ہے۔ چرک سمہیتا کے مطابق، یہ جدید نیند کی گولیوں کے برعکس اگلی صبح ذہنی تازگی فراہم کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
تواک (دارچینی): سردی، سوزش اور میٹابولزم بڑھانے کا قدرتی حل
تواک یا دارچینی آئوروید میں ہاضمے کی آگ بڑھانے اور کاف کو کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس کے باقاعدہ استعمال سے 8 ہفتوں میں کولیسٹرول میں 15٪ تک کمی آ سکتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
کٹج: اسہال اور پیٹ کے امراض کے لیے قدرتی حل
کٹج ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو روایتی طب میں اسہال اور پیٹ کی سوزش کے لیے سب سے زیادہ مستند علاج مانا جاتا ہے۔ چارک سंहیتا کے مطابق، اس کی گراہی طاقت آنتوں کو سکڑ کر فوری ریلیف دیتی ہے۔
2 منٹ پڑھنے
تیل پتہ (Tejpatta): کھانسی، سانس اور ہاضمے کے لیے روایتی علاج
تیل پتہ صرف کھانے کی مسالہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ادویہ ہے جو ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور کھانسی میں جمنے والا بلغم (Kapha) پگھلاتا ہے۔ چارک سمہتا کے مطابق، یہ جسم میں زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہا منجیشتھادی: خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے قدیم نسخہ
مہا منجیشتھادی خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے ایک قدیم نسخہ ہے جو چرک سمہیتا میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ پیتھ کو کم کرتا ہے، جلد کے داغ دھبوں کو مٹاتا ہے اور خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
کرنجا (Pongamia): کپھا ڈوشا، جلد کے امراض اور موٹاپے کے لیے قدیم اردو نسخے
کرنجا (Pongamia) خون کو صاف کرنے اور کپھا ڈوشا کو متوازن کرنے والی قدیم جڑی بوٹی ہے۔ یہ جلد کے امراض اور موٹاپے کے علاج میں خاص طور پر مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن پیٹہ والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں