AyurvedicUpchar
ل

لنگلی کے فوائد

آیورویدک جڑی بوٹی

لنگلی کے فوائد: جلد اور بچے کی پیدائش کے لیے زہریلی لیکن طاقتور جڑی بوٹی

4 منٹ پڑھنے

ماہر جائزہ شدہ

AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا

لنگلی کیا ہے اور یہ کیوں خاص ہے؟

لنگلی (Gloriosa superba) ایک ایسی جڑی بوٹی ہے جو اپنی تیز اثرات اور خطرناک زہر کے ہونے کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ سستے اور مشکل جلدی کے امراض اور پیدائش میں تاخیر کے لیے بہترین ہے۔ عام طور پر اسے "گلیوری لیلی" کہا جاتا ہے جس کے پھولوں کا رنگ سرخ اور پیلا ہوتا ہے اور یہ اپنی جڑوں میں ایک طاقتور دوا چھپائے ہوتی ہے۔ چارک سمہتا جیسے قدیم کتب میں اسے ایک ایسی دوا کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو جسم میں جمے ہوئے کاف اور واٹ کے مسائل کو جڑ سے ختم کرتی ہے۔

یہ جڑی بوٹی عام ٹانکوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ جسم کے نالیوں میں رکاوٹوں کو فوراً دور کرتی ہے۔ لنگلی کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی زہریلی طاقت ہی اسے گہرے انفیکشن اور جمی ہوئی خرابی کے خلاف لڑنے میں کامیاب بناتی ہے، بشرطیکہ اسے تیار کرتے وقت زہر کو نکال کر دوا کی تاثیر کو محفوظ رکھا جائے۔

"لنگلی کی زہریلی طاقت ہی اسے گہرے جمنے والے امراض کے خلاف ایک بہترین دوا بناتی ہے، لیکن یہ صرف ماہر کی نگرانی میں ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔"

لنگلی کے آیورویدک خواص کیا ہیں؟

لنگلی کے آیورویدک خواص یہ بتاتے ہیں کہ یہ آپ کے جسم کے ٹشوز اور ہاضمے کی آگ کے ساتھ کیسے کام کرتی ہے۔ ان خصوصیات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ آپ جان سکیں کہ یہ جلد کو صاف کرنے اور بچے کی پیدائش میں مدد دیتی ہے، لیکن روزانہ استعمال کے لیے کیوں موزوں نہیں ہے۔ دوائیوں کے علم کے مطابق اس کی بنیادی خصوصیات درج ذیل جدول میں دی گئی ہیں:

خاصیتاردو نامتفصیل
Rasa (مذاق)کٹو اور تیکتکڑوا اور تیز ذائقہ رکھتی ہے جو کاف کو کم کرتی ہے۔
Guna (وزن/طبعیت)لگھو اور رکتیہلکی اور خشک ہوتی ہے جو جسم سے گندگی نکالتی ہے۔
Virya (طاقت)اوشن (گرم)اس کی طاقت بہت زیادہ گرم ہے جو جمے ہوئے امراض کو پگھلاتی ہے۔
Vipaka (ہاضمہ)کٹوپچنے کے بعد بھی تیز اثر دیتی ہے۔
Prabhav (خاص اثر)ویشودھ (زہر نکالنے والا)زہر کو ختم کرنے اور جلد کے امراض کو روکنے میں مددگار۔

سوشروت سمہتا میں بھی لنگلی کو جلد کے گہرے زخموں اور سوجن کے لیے ایک اہم دوا کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ جڑی بوٹی صرف باہر سے لگانے کے لیے نہیں بلکہ اندرونی طور پر بھی، لیکن انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال ہوتی ہے۔

لنگلی کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟

لنگلی کا استعمال صرف ماہر آیورویدک ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی ہونا چاہیے کیونکہ اس کی غلط خوراک جان لیوا ہو سکتی ہے۔ عام طور پر اسے خشک پاؤڈر کی بجائے اس کی جڑ کے خاص طریقے سے صاف کیے ہوئے عرق یا تیاری شدہ فارمولوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جلد کے امراض جیسے کہ خارش یا کچھہ کے لیے اسے اکثر بیرونی طور پر لگایا جاتا ہے جبکہ بچے کی پیدائش کے لیے اسے انتہائی کم خوراک میں دیا جاتا ہے۔

"لنگلی کو کبھی بھی گھر پر خود سے تیار نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کا زہر نکالنے کا طریقہ بہت پیچیدہ اور خطرناک ہوتا ہے۔"

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

کیا لنگلی کو گھر پر استعمال کرنا محفوظ ہے؟

نہیں، لنگلی انتہائی زہریلی ہے اور اسے کبھی بھی کسی ماہر آیورویدک ڈاکٹر کی نگرانی کے بغیر خود سے نہیں لینا چاہیے۔ غلط استعمال سے موت واقع ہو سکتی ہے، اس لیے اس کا استعمال صرف پیشہ ورانہ سطح پر کیا جاتا ہے۔

جلد کے امراض کے لیے لنگلی کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟

ڈاکٹر خارش یا اکزیما جیسے امراض کے لیے کچے پاؤڈر کی بجائے صاف شدہ جڑ کے عرق یا خاص مرکب کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ مرکب جلد کی گہری تہوں میں جاکر زہر اور سوجن کو ختم کرتا ہے۔

کیا لنگلی گٹھیا کے درد میں مدد کرتی ہے؟

جی ہاں، لنگلی کی گرم طاقت گٹھیا اور جوڑوں کے درد کو کم کرنے میں بہت مؤثر ہے، لیکن یہ صرف باہر لگانے والی مالش کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اندرونی طور پر اسے صرف انتہائی ضرورت پڑنے پر ہی دیا جاتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا لنگلی کو گھر پر استعمال کرنا محفوظ ہے؟

نہیں، لنگلی انتہائی زہریلی ہے اور اسے کبھی بھی کسی ماہر آیورویدک ڈاکٹر کی نگرانی کے بغیر خود سے نہیں لینا چاہیے۔ غلط استعمال سے موت واقع ہو سکتی ہے، اس لیے اس کا استعمال صرف پیشہ ورانہ سطح پر کیا جاتا ہے۔

جلد کے امراض کے لیے لنگلی کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟

ڈاکٹر خارش یا اکزیما جیسے امراض کے لیے کچے پاؤڈر کی بجائے صاف شدہ جڑ کے عرق یا خاص مرکب کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ مرکب جلد کی گہری تہوں میں جاکر زہر اور سوجن کو ختم کرتا ہے۔

کیا لنگلی گٹھیا کے درد میں مدد کرتی ہے؟

جی ہاں، لنگلی کی گرم طاقت گٹھیا اور جوڑوں کے درد کو کم کرنے میں بہت مؤثر ہے، لیکن یہ صرف باہر لگانے والی مالش کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اندرونی طور پر اسے صرف انتہائی ضرورت پڑنے پر ہی دیا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

تالش پتی چورن: کھانسی، زکام اور ہاضمے کے لیے قدیم دیسی نسخہ

تالش پتی چورن ایک طاقتور آیورویدک پاؤڈر ہے جو کھانسی اور زکام سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر کھچاؤ والی بلغم اور سردیوں میں ہونے والی سانس کی تکلیف کے لیے بہترین ہے۔

4 منٹ پڑھنے

شالپارنی کے فائدے: کمزوری دور کرنے اور وزن بڑھانے کا قدرتی حل

شالپارنی ایک قدرتی جڑی بوٹی ہے جو جسمانی کمزوری کو دور کرتی ہے اور وزن بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ یہ چرک سمہتا کے مطابق 'برہنی' (غذائیت بخش) جڑی ہے جو جسم میں حرارت پیدا کیے بغیر طاقت واپس لاتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

کٹھمچوکا تیل: جوڑوں کے درد، سوجن اور ویتا عدم توازن کا قدرتی حل

کٹھمچوکا تیل جوڑوں کے درد، سوجن اور ویتا عدم توازن کے لیے ایک قدیم جنوبی ہندوی دوائی ہے۔ یہ تل کے تیل اور خاص جڑی بوٹیوں کا وہ امتزاج ہے جو گہری نالیوں میں چپکے ہوئے زہریلے مادوں کو نکالنے اور جوڑوں کی سختی کو پگھلانے میں مدد دیتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

چنے کے فوائد: پٹھوں کی مضبوطی، ویت کا توازن اور آیورویدک استعمال

چنے (بنگال گریم) آیوروید میں پٹھوں کی مضبوطی اور ویت دوष کے توازن کے لیے ایک اہم دال ہے۔ یہ جسم کو گرم کیے بغیر توانائی فراہم کرتا ہے اور سوزش کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

5 منٹ پڑھنے

آسفوتہ کے فائدے: دماغی طاقت اور ذہنی سکون کے لیے قدیم جڑی بوٹی

آسفوتہ ایک قدیم جڑی بوٹی ہے جو دماغی طاقت اور ذہنی سکون کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ وٹا اور پیتا دوष کو متوازن کرتی ہے اور کڑوا ذائقہ اسے زہر ختم کرنے والا بناتا ہے۔

3 منٹ پڑھنے

धात्री लौह: एनीमिया, पीलिया और एसिडिटी के लिए आयुर्वेदिक उपाय

دھاتری لौہ اینیمیا، یرقان اور تیزابیت کے لیے ایک طاقتور آیورویدک حل ہے جو قدرتی طور پر خون بناتا ہے اور جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔

6 منٹ پڑھنے

حوالہ جات اور ذرائع

یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

  • • Charaka Samhita (चरक संहिता)
  • • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
  • • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
یہ ویب سائٹ صرف عمومی معلومات فراہم کرتی ہے. یہاں دی گئی معلومات طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے. کوئی بھی علاج آزمانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں