کھرہوبہ پیسٹ
آیورویدک جڑی بوٹی
کھرہوبہ پیسٹ: بواسیر سے خون بہنے اور اندرونی جلن کا قدرتی حل | قدیم طب
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
کھرہوبہ پیسٹ (Kharahuba Paste) کیا ہے اور یہ بواسیر کے خون کو کیسے روکتی ہے؟
کھرہوبہ پیسٹ ایک ایسا باریک اور ٹھنڈا پیسٹ ہے جو پروسیس شدہ کھرہوبہ (امبر) سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ روایتی طور پر خون کے بہاؤ کو روکنے اور اندرونی سوزش کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ کچا پتھر نہیں بلکہ اسے گلاب کے پانی یا گلاب کی پتیوں کے ساتھ پیس کر اتنا باریک کر دیا جاتا ہے کہ یہ سفید پاؤڈر بن جائے، جسے جسم آسانی سے جذب کر لیتا ہے۔ اس کا بنیادی استعمال بواسیر (hemorrhoids) سے ہونے والے خون، شدید ماہواری کے بہاؤ اور ان زخموں کے لیے کیا جاتا ہے جن کی بنیاد 'گرمی' یا 'پیتا' کا بڑھنا ہے۔
قدیم کتاب بھاو پرکاش نگھنٹو میں کھرہوبہ کو صرف ایک پتھر نہیں بلکہ ایسی چیز کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو زمین کی ٹھنڈک رکھتی ہے اور بڑھے ہوئے پیتا (Pitta) کو سکون دیتی ہے۔ جب اسے 'پیسٹ' کی شکل دی جاتی ہے، تو یہ اپنی سختی کھو دیتا ہے اور اس میں میٹھا ذائقہ اور ٹھنڈی طاقت آ جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اسے کھانے کے لیے محفوظ بنا دیتی ہے، تاکہ یہ بغیر کسی تکلیف کے جلے ہوئے ٹشوز کو ٹھنڈا کر سکے۔
"کھرہوبہ پیسٹ ایک ٹھنڈا اور خون روکنے والا نسخہ ہے جو پروسیس شدہ کھرہوبہ سے بنایا جاتا ہے، خاص طور پر پیتا کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والے خون بہنے اور سوجن کو روکنے کے لیے۔"
لوگ اکثر حیران ہوتے ہیں کہ پتھر سے علاج کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کا راز اس کی تیاری کے طریقے میں ہے۔ جب اسے گلاب کے پانی کے ساتھ پیس کر کئی بار پروسیس کیا جاتا ہے تو اس کی کھردراہٹ ختم ہو جاتی ہے اور یہ ایک نرم دوا بن جاتا ہے۔
کھرہوبہ پیسٹ کے طبی خصوصیات (Rasa, Guna, Virya, Vipaka) کیا ہیں؟
یہ پیسٹ صرف ایک عام پاؤڈر نہیں ہے بلکہ اس کی ساخت میں خاص طبی طاقتیں موجود ہیں جو اسے دیگر ادویات سے ممتاز کرتی ہیں۔
| خصوصیت (Property) | اردو وضاحت | اثر (Effect) |
|---|---|---|
| رَس (Rasa) | مٹھاس (Madhura) | پیتا کو سکون دیتا ہے اور زخموں کو بھرتا ہے |
| گُن (Guna) | ہلکا اور چپچپا (Laghu, Snigdha) | جسم میں تیزی سے جذب ہوتا ہے اور خشکی ختم کرتا ہے |
| ویری (Virya) | سرد (Sheeta) | اندرونی جلن اور گرمی کو فوراً کم کرتا ہے |
| ویپاک (Vipaka) | میٹھا (Madhura) | پچاؤ کے بعد بھی ٹھنڈک کا اثر برقرار رکھتا ہے |
کھرہوبہ پیسٹ کا استعمال کب اور کیسے کیا جاتا ہے؟
کھرہوبہ پیسٹ کا بہترین استعمال اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں 'گرمی' کی علامتیں ظاہر ہوں۔ اسے عام طور پر گھی یا دودھ کے ساتھ لیا جاتا ہے تاکہ اس کا اثر جلدی پھیلائے۔ اگر بواسیر سے خون بہہ رہا ہو، تو اسے روزانہ دو بار، صبح اور شام، ایک گھاس کے برابر مقدار (تقریباً 1-2 گرام) دودھ کے ساتھ لینا چاہیے۔ یہ زخموں کو اندرونی طور پر ٹھنڈا کر کے خون کے بہاؤ کو روکتا ہے۔
چرک سمہتا (Charaka Samhita) میں اس طرح کی ٹھنڈک دینے والی ادویات کا ذکر اس وقت کیا گیا ہے جب پیتا دوष کی وجہ سے خون خراب ہو جائے۔ یہ دوا نہ صرف خون کو روکتی ہے بلکہ اسے صاف بھی کرتی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
کیا بواسیر سے خون بہنے کے لیے کھرہوبہ پیسٹ استعمال کرنا محفوظ ہے؟
جی ہاں، کھرہوبہ پیسٹ بواسیر سے ہونے والے خون اور جلن کے لیے بہت مؤثر ہے۔ اس کی ٹھنڈی طاقت اور خون روکنے والے اثرات گھی یا دودھ کے ساتھ لینے پر خون کے بہاؤ کو روکتے ہیں اور سوزش کو کم کرتے ہیں۔
کھرہوبہ پیسٹ پیتا دوष کو کیسے متوازن کرتی ہے؟
یہ پیسٹ خون کو ٹھنڈا کر کے اور اندرونی ٹشوز کو طاقت دے کر کام کرتی ہے۔ اس کا میٹھا ذائقہ اور سرد طاقت پیتا کو سکون دیتی ہے، جس سے اندرونی جلن اور سوجن ختم ہو جاتی ہے۔
کیا یہ ماہواری کے دوران زیادہ خون بہنے میں مدد دیتی ہے؟
ہاں، جب ماہواری کے دوران خون بہنا بہت زیادہ ہو اور اس کی وجہ جسمانی گرمی ہو، تو کھرہوبہ پیسٹ خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ رحم کے ٹشوز کو ٹھنڈک پہنچا کر سکون دیتی ہے۔
کیا بچے یا حاملہ خواتین اسے استعمال کر سکتی ہیں؟
عام طور پر یہ محفوظ سمجھی جاتی ہے، لیکن حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے ڈوز اور استعمال کا طریقہ ڈاکٹر یا ماہر طب سے مشورہ کر کے ہی طے کرنا چاہیے، کیونکہ ہر مریض کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا بواسیر سے خون بہنے کے لیے کھرہوبہ پیسٹ استعمال کرنا محفوظ ہے؟
جی ہاں، یہ بواسیر کے خون اور جلن کے لیے بہت مؤثر ہے۔ اس کی ٹھنڈی طاقت گھی یا دودھ کے ساتھ لینے پر خون کے بہاؤ کو روکتی ہے۔
کھرہوبہ پیسٹ پیتا دوष کو کیسے متوازن کرتی ہے؟
یہ خون کو ٹھنڈا کر کے اور اندرونی ٹشوز کو طاقت دے کر کام کرتی ہے۔ اس کا میٹھا ذائقہ پیتا کو سکون دیتا ہے۔
کیا یہ ماہواری کے دوران زیادہ خون بہنے میں مدد دیتی ہے؟
ہاں، جب خون بہنا زیادہ ہو اور وجہ جسمانی گرمی ہو تو یہ خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرتی ہے اور رحم کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔
کیا بچے یا حاملہ خواتین اسے استعمال کر سکتی ہیں؟
عام طور پر یہ محفوظ ہے، لیکن حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے ڈوز ڈاکٹر سے مشورہ کر کے طے کرنا چاہیے۔
متعلقہ مضامین
سینگھڑا (شرونگٹک): پیٹ کی جلن اور تیزابیت کے لیے قدرتی ٹھنڈک
سینگھڑا (شرونگٹک) جسم کی تیزابیت اور جلن کو فوری کم کرنے والا قدرتی ٹھنڈا پھل ہے۔ آیوروید میں اسے 'شیٹ ویریا' یعنی ٹھنڈی طاقت والا مانا جاتا ہے جو خون کی روانی کو روکنے اور جلد کے مسائل میں بہت مفید ہے۔
4 منٹ پڑھنے
دارو ہلدی (Indian Barberry): جلد، جگر اور شوگر کنٹرول کے لیے قدیم اور جدید فوائد
دارو ہلدی (Indian Barberry) خون صاف کرنے، جگر کو ٹھنڈا کرنے اور شوگر کنٹرول کرنے کے لیے ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے۔ اس میں موجود 'بربرائن' مرکب جدید سائنس کے مطابق خون میں گلوکوز کو کنٹرول کرتا ہے۔
5 منٹ پڑھنے
وشیرااسو: خون کی صفائی، جلد کی ٹھنڈک اور ناک سے خون رکنے کا قدیم نسخہ
وشیرااسو خون کی گرمی کو ٹھنڈا کرنے اور ناک سے خون بہنے کو روکنے کا ایک قدیم اور قدرتی حل ہے۔ یہ کھس کی جڑوں سے بننے والا ٹونک جلن اور سوجن کو فوری طور پر کم کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
چکوٹرا (مادھوکرکٹی): ہاضمے اور دل کی صحت کے لیے فائدے
چکوٹرا (مادھوکرکٹی) ایک قدرتی پھل ہے جو ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کی سرد طاقت معدے کی تیزابیت کو کم کرتی ہے اور جسم میں سردی پیدا کرتی ہے۔
3 منٹ پڑھنے
نیلا کمل (Blue Lotus): دل کو سکون دینا اور پت کو ٹھنڈا کرنا
نیلا کمل (Blue Lotus) ایک قدرتی جڑی بوٹی ہے جو دل کو سکون دیتی ہے اور جسم کی تیز آگ (پت) کو فوری ٹھنڈا کرتی ہے۔ یہ نیند اور ذہنی بے چینی کے لیے بھی ایک بہترین حل ہے۔
4 منٹ پڑھنے
تلسی کے بیج: وٹ کا توازن، صحتِ جلد اور ہاضمے کے لیے فائدے
تلسی کے بیج خشک جلد، جوڑوں کی اکڑن اور قبض کے لیے ایک قدرتی علاج ہیں۔ یہ وٹ دوش کو متوازن کرتے ہیں لیکن تیزابیت والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔
4 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں