AyurvedicUpchar
دہی کے آیورودک فائدے، خواص اور درست استعمال کا طریقہ — آیورویدک جڑی بوٹی

دہی کے آیورودک فائدے، خواص اور درست استعمال کا طریقہ

4 منٹ پڑھنےاپ ڈیٹ:

ماہر جائزہ شدہ

AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا

دہی (Dahi) کیا ہے اور آیورود میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

دہی (Dahi) ایک ایسا دودھ کی پیداوار ہے جو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے، لیکن اگر غلط طریقے سے کھایا جائے تو یہ جسم کی نالیوں کو بند کر سکتا ہے۔ آیورود کے مطابق، دہی کی تاثیر گرم (Ushna) ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ کھٹا (Amla) ہے۔ یہ بنیادی طور پر واتا دو کو پرسکون کرنے کے لیے جانی جاتی ہے، لیکن زیادہ کھانے سے پت اور کف بڑھ سکتے ہیں۔

چرک سنہتا اور بھو پرکش نگھنٹو جیسی قدیم کتابوں میں دہی کو ایک اہم دواؤں والا مادہ مانا گیا ہے۔ ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ آیورود میں دہی کو 'بلی' (طاقتور بنانے والا) اور 'دیپن' (بھوک بڑھانے والا) مانا جاتا ہے، بشرطیکہ اسے درست وقت اور درست مقدار میں کھایا جائے۔

دہی کا کھٹا ذائقہ صرف زبان پر محسوس نہیں ہوتا، بلکہ یہ معدے کی آگ کو جگاتا ہے اور نظام انہضام کو متحرک کرتا ہے۔ تاہم، اسے کچا دودھ سمجھنے کی غلطی نہ کریں؛ اس کی فطرت بدل چکی ہے اور یہ جسم میں فوری توانائی دیتی ہے لیکن بھاری بھی ہو سکتی ہے۔

دہی (Dahi) کے آیورودک خواص اور جسم پر اثرات

آیورود میں ہر چیز کو پانچ بنیادی خواص کی بنیاد پر سمجھا جاتا ہے۔ ان خواص کو جاننے سے آپ دہی کا استعمال اپنی تاثیر کے مطابق کر سکتے ہیں:

خاصیت (سنسکرت) قیمت (Value) جسم پر اثر (Effect)
رس (ذائقہ) امل (Amla - کھٹا) بھوک بڑھاتا ہے اور ہضمی آگ کو تیز کرتا ہے۔
گن (طبیعی خصوصیت) گرو (بھاری)، سنیگدھ (چکنائی والا) یہ جسم میں آہستہ ہضم ہوتا ہے اور اونکوں میں گہرائی تک جاتا ہے۔
ویریا (طاقت) شنا (Ushna - گرم) جسم کا درجہ حرارت بڑھاتا ہے اور میٹابولزم کو تیز کرتا ہے۔
وپک (ہضم ہونے کے بعد کا اثر) امل (Amla - کھٹا) ہضم ہونے کے بعد بھی کھٹا اثر چھوڑتا ہے، جو پت کو بڑھا سکتا ہے۔
دوش (دوشوں پر اثر) وات ناشک (Vata Shamak) وات دو کو پرسکون کرتا ہے، لیکن پت اور کف کو بڑھا سکتا ہے۔

یاد رکھیں، دہی کی یہ 'گرو' (بھاری) اور 'سنیگدھ' (چکنائی والی) فطرت ہی وجہ ہے کہ رات کے وقت اسے کھانے سے کف جمع ہو سکتا ہے اور گلے میں خراش ہو سکتی ہے۔

دہی (Dahi) کو درست طریقے سے کیسے کھائیں؟

دہی کا درست استعمال تب ہی فائدہ مند ہے جب آپ اسے اپنی تاثیر اور موسم کے مطابق کھائیں۔ رات کے وقت دہی کھانے سے گریز کریں کیونکہ یہ ہضم کرنے کے لیے بھاری ہے۔

اگر آپ کو سردیوں میں کمزوری محسوس ہوتی ہے، تو دوپہر کے کھانے کے ساتھ تھوڑی سی دہی لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس میں تھوڑا سا کالا نمک یا زیرہ ڈالنے سے اس کا بھاری پن کم ہو جاتا ہے اور ہضم بہتر ہوتا ہے۔

ایک اور اہم حقیقت: چرک سنہتا کے مطابق، دہی کو کبھی بھی گرم کرنے کے بجائے نیم گرم کر کے یا سادہ ہی لینا چاہیے، کیونکہ گرم کرنے پر اس کے غذائی اجزاء ختم ہو جاتے ہیں اور یہ زہریلا ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کا پت دو زیادہ ہے یا آپ کو گلے میں خراش، کف یا جلنے کی شکایت ہے، تو دہی کا استعمال بند کر دیں یا اسے ہلکی دہی (چھچھ) کی شکل میں لیں۔

دہی (Dahi) سے متعلق سوالات اور جوابات

کیا دہی واقعی پیٹ کے لیے اچھی ہے؟

جی ہاں، دہی ہضمی انزائمز کو متحرک کر کے پیٹ کے لیے بہت اچھی ہے، لیکن یہ تب ہی فائدہ مند ہے جب آپ کا نظام انہضام مضبوط ہو۔ اسے کھٹا ہونے سے پہلے ہی کھا لینا چاہیے تاکہ یہ پت کو نہ بڑھائے۔

کیا میں رات کو دہی کھا سکتا ہوں؟

آیورود میں رات کو دہی کھانے کا مشورہ نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ کف بڑھاتا ہے اور نیند میں خلل ڈال سکتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو تھوڑی سی چھچھ (Buttermilk) لیں جو ہلکی ہوتی ہے۔

دہی کا استعمال کب نہیں کرنا چاہیے؟

جب آپ کو بخار، کھانسی، کف کی مسئلہ ہو یا پت دو بڑھا ہو، تو دہی کا استعمال فوراً بند کر دیں۔ اس حالت میں یہ جسم کی جلن اور سوجن کو بڑھا سکتا ہے۔

کیا دہی کو گرم کر کے کھایا جا سکتا ہے؟

نہیں، دہی کو کبھی بھی گرم نہیں کرنا چاہیے۔ گرم کرنے پر اس کے پروٹین کی ساخت بدل جاتی ہے اور یہ جسم کے لیے نقصان دہ (زہریلا) بن سکتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا دہی واقعی پیٹ کے لیے اچھی ہے؟

جی ہاں، دہی ہضمی انزائمز کو متحرک کر کے پیٹ کے لیے بہت اچھی ہے، لیکن یہ تب ہی فائدہ مند ہے جب آپ کا نظام انہضام مضبوط ہو۔ اسے کھٹا ہونے سے پہلے ہی کھا لینا چاہیے تاکہ یہ پت کو نہ بڑھائے۔

کیا میں رات کو دہی کھا سکتا ہوں؟

آیورود میں رات کو دہی کھانے کا مشورہ نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ کف بڑھاتا ہے اور نیند میں خلل ڈال سکتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو تھوڑی سی چھچھ (Buttermilk) لیں جو ہلکی ہوتی ہے۔

دہی کا استعمال کب نہیں کرنا چاہیے؟

جب آپ کو بخار، کھانسی، کف کی مسئلہ ہو یا پت دو بڑھا ہو، تو دہی کا استعمال فوراً بند کر دیں۔ اس حالت میں یہ جسم کی جلن اور سوجن کو بڑھا سکتا ہے۔

کیا دہی کو گرم کر کے کھایا جا سکتا ہے؟

نہیں، دہی کو کبھی بھی گرم نہیں کرنا چاہیے۔ گرم کرنے پر اس کے پروٹین کی ساخت بدل جاتی ہے اور یہ جسم کے لیے نقصان دہ (زہریلا) بن سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

تگر: تناؤ اور نیند کے لیے قدیم ہندوستانی جڑی بوٹی

تگر ایک قدیم آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو وٹ اور پیتھ کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند دیتی ہے۔ چرک سمہیتا کے مطابق، یہ جدید نیند کی گولیوں کے برعکس اگلی صبح ذہنی تازگی فراہم کرتا ہے۔

3 منٹ پڑھنے

تواک (دارچینی): سردی، سوزش اور میٹابولزم بڑھانے کا قدرتی حل

تواک یا دارچینی آئوروید میں ہاضمے کی آگ بڑھانے اور کاف کو کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس کے باقاعدہ استعمال سے 8 ہفتوں میں کولیسٹرول میں 15٪ تک کمی آ سکتی ہے۔

4 منٹ پڑھنے

کٹج: اسہال اور پیٹ کے امراض کے لیے قدرتی حل

کٹج ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو روایتی طب میں اسہال اور پیٹ کی سوزش کے لیے سب سے زیادہ مستند علاج مانا جاتا ہے۔ چارک سंहیتا کے مطابق، اس کی گراہی طاقت آنتوں کو سکڑ کر فوری ریلیف دیتی ہے۔

2 منٹ پڑھنے

تیل پتہ (Tejpatta): کھانسی، سانس اور ہاضمے کے لیے روایتی علاج

تیل پتہ صرف کھانے کی مسالہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ادویہ ہے جو ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور کھانسی میں جمنے والا بلغم (Kapha) پگھلاتا ہے۔ چارک سمہتا کے مطابق، یہ جسم میں زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔

4 منٹ پڑھنے

مہا منجیشتھادی: خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے قدیم نسخہ

مہا منجیشتھادی خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے ایک قدیم نسخہ ہے جو چرک سمہیتا میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ پیتھ کو کم کرتا ہے، جلد کے داغ دھبوں کو مٹاتا ہے اور خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے۔

3 منٹ پڑھنے

کرنجا (Pongamia): کپھا ڈوشا، جلد کے امراض اور موٹاپے کے لیے قدیم اردو نسخے

کرنجا (Pongamia) خون کو صاف کرنے اور کپھا ڈوشا کو متوازن کرنے والی قدیم جڑی بوٹی ہے۔ یہ جلد کے امراض اور موٹاپے کے علاج میں خاص طور پر مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن پیٹہ والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔

3 منٹ پڑھنے

حوالہ جات اور ذرائع

یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

  • • Charaka Samhita (चरक संहिता)
  • • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
  • • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
یہ ویب سائٹ صرف عمومی معلومات فراہم کرتی ہے. یہاں دی گئی معلومات طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے. کوئی بھی علاج آزمانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں.

اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں