
یرندہ پترہ: جوڑوں کے درد اور واٹ دوش کا دیسی علاج
ماہر جائزہ شدہ
AyurvedicUpchar ایڈیٹوریل ٹیم نے جائزہ لیا
یرندہ پترہ کیا ہے اور اس کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟
یرندہ پترہ، جسے عام زبان میں ارندی یا کسٹر کے پتوں کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک گرم تاثیر والی جڑی بوٹی ہے۔ یہ پتے پرانے زمانے سے سخت جوڑوں کی سوجن اور درد کو کم کرنے کے لیے گرم پٹی (پولٹس) کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری دواؤں کے اکثر اندر سے لینے کے مقابلے، یرندہ پترہ زیادہ تر باہر سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے دیہاتوں میں کسان اور بزرگ خواتین اکثر دردناک گھٹنوں یا ٹوٹیوں پر تازہ اور ہلکا سا گرم کیے ہوئے پتے لپیٹ دیتی ہیں تاکہ ہڈیوں میں چھپا ہوا پرانا درد باہر نکل آئے۔
آیورودک طب کے اصولوں کے مطابق، یرندہ پترہ کی 'اشنا ویریہ' (گرم طاقت) ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ میٹھا (مدھور) اور تیکھا (کتو) دونوں ہوتا ہے۔ چرک سنہتا، خاص طور پر سترا ستھان کے باب میں، اس پتے کو واٹ دوش سے پیدا ہونے والی تکلیفوں کا مختار علاج بتاتی ہے۔ جہاں میٹھا ذائقہ جسموں کو طاقت دیتا ہے اور دماغ کو سکون، وہیں تیکھا پن خون کی گردش کو تیز کرتا ہے اور نسیں و نفس میں رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔
جب آپ تازہ یرندہ پترہ کو چھوتے ہیں، تو یہ موٹا اور ہلکا سا موم جیسا لگتا ہے، جس کی خوشبو زمین جیسی ہوتی ہے جو ملنے یا گرم کرنے پر تیز ہو جاتی ہے۔ یہ احساس بتاتا ہے کہ یہ پتا جسموں میں کتنی گہرائی تک اثر کر سکتا ہے، اس لیے سوکھی، چٹکنے والی جوڑوں اور پٹھوں کے کھچاؤ کے لیے یہ بے مثال ہے۔
یرندہ پترہ کی آیورودک خوبیاں کیسے کام کرتی ہیں؟
یرندہ پترہ کے اثرات پانچ خاص خوبیوں پر مبنی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ آپ کے جسم کے نظام سے کیسے تال میل رکھتا ہے۔ یہ خوبیاں واضح کرتی ہیں کہ درد دور کرنے میں یہ کتنا اثر دار ہے، لیکن جن کے جسم میں پہلے سے گرمی زیادہ ہو انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔
| خاصیت (سنسکرت) | تفصیل | آپ کے جسم پر اثر |
|---|---|---|
| رس (ذائقہ) | مدھور، کتو | میٹھا ذائقہ جسموں کو پوشن دیتا ہے؛ تیکھا ذائقہ میٹابولزم کو تیز کر کے راستے صاف کرتا ہے۔ |
| گن (خال و خوی) | سنگدھ | تیلی یا چکنی فطرت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ جسموں کی سطح پر نہ رک کر اندر تک جائے۔ |
| ویریہ (طاقت) | اشنا | گرم طاقت خون کی گردش بڑھاتی ہے، ہضمے کی آگ (اگنی) کو سلگاتی ہے اور ٹھنڈک سے جمی رکاوٹ کو پگھلاتی ہے۔ |
| وپاک (ہضمے کے بعد اثر) | مدھور | پوری طرح ہضم ہونے کے بعد اس کا اثر میٹھا رہتا ہے، جو لمبے عرصے تک جسم کو طاقت دیتا ہے۔ |
یہ خوبیاں مل کر ایک ایسی جڑی بوٹی بناتی ہیں جو گہرائی تک اثر کرتی ہے اور گرمی دیتی ہے۔ طبی ماہرین کے لیے یہ اہم بات ہے کہ یرندہ پترہ کی 'سنگدھ' (تیلی) فطرت اس کی گرمی کو جوڑوں تک پہنچنے دیتی ہے بغیر انہیں سوکھے ہوئے نقصان پہنچائے، جو اکثر دوسری گرم دواؤں کا نقصان ہوتا ہے۔
یرندہ پترہ کون سے دوش کو ٹھیک کرتا ہے اور کس کو بڑھاتا ہے؟
یرندہ پترہ بنیادی طور پر واٹ دوش کو شانت کرتا ہے، جو سوکھ، ٹھنڈک اور جسم میں بے ترتیبی حرکت سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ پرانا قبض، نیند نہ آنا، بے چینی اور جوڑوں کی اکڑ یا چڑ چڑانے کی آواز کے لیے خاص اثر دار ہے۔
لیکن، جن لوگوں کی طبیعت میں پتہ دوش زیادہ ہو، انہیں اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس پتے میں 'اشنا ویریہ' (گرم طاقت) اور 'کتو رس' (تیکھا ذائقہ) ہے، اس کا حد سے زیادہ استعمال پتہ کو بڑھا سکتا ہے۔ اس کا اثر جلد پر دانوں، تیز تیزابیت، یا جسم کے حرارت میں اضافے کی شکل میں ہو سکتا ہے۔ پتہ والے لوگوں کے لیے بہتر ہے کہ اس کا استعمال باہر سے کم مقدار میں کریں اور تل کے تیل کی بجائے ناریل کے تیل جیسے ٹھنڈا کرنے والے تیل کے ساتھ ملائیں۔
گھر پر یرندہ پترہ کا استعمال کیسے کریں؟
گھریلو ٹوٹکوں میں یرندہ پترہ کو زیادہ تر باہر سے لگایا جاتا ہے۔ ایک عام طریقہ یہ ہے کہ تازہ پتوں کو ہلکی آنچ پر اس طرح گرم کیا جائے کہ وہ نرم ہو جائیں اور خوشبو چھوڑ دیں، پھر انہیں دردناک جوڑ پر لپیٹ دیا جائے۔ اس گرم پٹی کو 15 سے 20 منٹ تک رکھا جاتا ہے تاکہ گرمی اور دوائی اثر کر سکے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تازہ پتوں کو پیس کر موٹا پیسٹ بنایا جائے اور سوجی ہوئی جگہ پر لگایا جائے۔ اس پیسٹ کو کچھ دیر لگا رہنے دیا جاتا ہے اور پھر گرم پانی سے دھو لیا جاتا ہے۔ جنہیں شدید واٹ کا درد ہو، وہ پتوں کو کپڑے سے باندھ کر رات بھر بھی رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر جلد نازک ہو تو یہ کسی حکیم کے مشورے سے کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
کیا یرندہ پترہ کو اندر سے کھانا محفوظ ہے؟
یرندہ پترہ عام طور پر باہر سے لگانے (پولٹس) کے لیے استعمال ہوتا ہے؛ اس کا اندر سے لینا شاذر ہے اور اس کی تیز گرم تاثیر کی وجہ سے یہ صرف کسی ماہر آیورودک ڈاکٹر کی سخت نگرانی میں ہی کرنا چاہیے۔
کیا یرندہ پترہ سائٹیکا (کمر کی نس) کے درد میں مددگار ہے؟
جی ہاں، کیونکہ یہ واٹ دوش کو شانت کرتا ہے اور اس کی گرمی گہرائی تک اثر کرتی ہے، اس لیے کمر کے نچلے حصے اور سائٹیکا کے درد کے لیے گرم پٹی بنا کر لگانا مفید ہے۔
کیا یرندہ پترہ پتہ دوش کو بڑھاتا ہے؟
جی ہاں، اس کی گرم طاقت اور تیکھے ذائقے کی وجہ سے یہ پتہ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے جلد کی خارش یا تیزابیت ہو سکتی ہے۔
جوڑوں کے درد کے لیے یرندہ پترہ تیار کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
سب سے اثر دار طریقہ یہ ہے کہ تازہ پتوں کو نرم ہونے تک گرم کر کے، دردناک جوڑ پر 15 سے 20 منٹ کے لیے گرم پٹی کی طرح لگایا جائے۔
ڈس کلیمر: یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں اور یہ کوئی طبی مشورہ نہیں ہے۔ یرندہ پترہ کا استعمال کرنے سے پہلے، خاص طور پر اگر آپ حاملہ ہیں، دودھ پلاتی ہیں، یا کسی پرانی بیماری میں مبتلا ہیں، تو کسی کوالیفائیڈ آیورودک پریکٹیشنر یا ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا یرندہ پترہ کو اندر سے کھانا محفوظ ہے؟
یرندہ پترہ عام طور پر باہر سے لگانے (پولٹس) کے لیے استعمال ہوتا ہے؛ اس کا اندر سے لینا شاذر ہے اور یہ صرف کسی ماہر آیورودک ڈاکٹر کی سخت نگرانی میں ہی کرنا چاہیے۔
کیا یرندہ پترہ سائٹیکا (کمر کی نس) کے درد میں مددگار ہے؟
جی ہاں، کیونکہ یہ واٹ دوش کو شانت کرتا ہے اور اس کی گرمی گہرائی تک اثر کرتی ہے، اس لیے کمر کے نچلے حصے اور سائٹیکا کے درد کے لیے گرم پٹی بنا کر لگانا مفید ہے۔
کیا یرندہ پترہ پتہ دوش کو بڑھاتا ہے؟
جی ہاں، اس کی گرم طاقت اور تیکھے ذائقے کی وجہ سے یہ پتہ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے جلد کی خارش یا تیزابیت ہو سکتی ہے۔
جوڑوں کے درد کے لیے یرندہ پترہ تیار کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
سب سے اثر دار طریقہ یہ ہے کہ تازہ پتوں کو نرم ہونے تک گرم کر کے، دردناک جوڑ پر 15 سے 20 منٹ کے لیے گرم پٹی کی طرح لگایا جائے۔
متعلقہ مضامین
تگر: تناؤ اور نیند کے لیے قدیم ہندوستانی جڑی بوٹی
تگر ایک قدیم آیورویدک جڑی بوٹی ہے جو وٹ اور پیتھ کو پرسکون کرتے ہوئے گہری نیند دیتی ہے۔ چرک سمہیتا کے مطابق، یہ جدید نیند کی گولیوں کے برعکس اگلی صبح ذہنی تازگی فراہم کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
تواک (دارچینی): سردی، سوزش اور میٹابولزم بڑھانے کا قدرتی حل
تواک یا دارچینی آئوروید میں ہاضمے کی آگ بڑھانے اور کاف کو کم کرنے کے لیے مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس کے باقاعدہ استعمال سے 8 ہفتوں میں کولیسٹرول میں 15٪ تک کمی آ سکتی ہے۔
4 منٹ پڑھنے
کٹج: اسہال اور پیٹ کے امراض کے لیے قدرتی حل
کٹج ایک طاقتور جڑی بوٹی ہے جو روایتی طب میں اسہال اور پیٹ کی سوزش کے لیے سب سے زیادہ مستند علاج مانا جاتا ہے۔ چارک سंहیتا کے مطابق، اس کی گراہی طاقت آنتوں کو سکڑ کر فوری ریلیف دیتی ہے۔
2 منٹ پڑھنے
تیل پتہ (Tejpatta): کھانسی، سانس اور ہاضمے کے لیے روایتی علاج
تیل پتہ صرف کھانے کی مسالہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ادویہ ہے جو ہاضمے کی آگ کو بڑھاتا ہے اور کھانسی میں جمنے والا بلغم (Kapha) پگھلاتا ہے۔ چارک سمہتا کے مطابق، یہ جسم میں زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں فوری آرام دیتا ہے۔
4 منٹ پڑھنے
مہا منجیشتھادی: خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے قدیم نسخہ
مہا منجیشتھادی خون کی صفائی اور جلد کی صحت کے لیے ایک قدیم نسخہ ہے جو چرک سمہیتا میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ پیتھ کو کم کرتا ہے، جلد کے داغ دھبوں کو مٹاتا ہے اور خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے۔
3 منٹ پڑھنے
کرنجا (Pongamia): کپھا ڈوشا، جلد کے امراض اور موٹاپے کے لیے قدیم اردو نسخے
کرنجا (Pongamia) خون کو صاف کرنے اور کپھا ڈوشا کو متوازن کرنے والی قدیم جڑی بوٹی ہے۔ یہ جلد کے امراض اور موٹاپے کے علاج میں خاص طور پر مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن پیٹہ والوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔
3 منٹ پڑھنے
حوالہ جات اور ذرائع
یہ مضمون چرک سنہتا، سشروت سنہتا اور اشٹانگ ہردے جیسی کلاسیکی آیورویدک کتابوں کے اصولوں پر مبنی ہے. کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے اہل آیورویدک ڈاکٹر سے مشورہ کریں.
- • Charaka Samhita (चरक संहिता)
- • Sushruta Samhita (सुश्रुत संहिता)
- • Ashtanga Hridaya (अष्टांग हृदय)
اس مضمون میں کوئی غلطی ملی؟ ہمیں بتائیں